تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 49

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹ سورة المؤمنون جب انسان کو نمازوں میں خشوع اور خضوع حاصل ہونے لگ جاتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے دل سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ پھر وہ کاشتکاری ،تجارت، نوکری وغیرہ چھوڑ دیتا ہے بلکہ وہ دنیا کے ایسے کاموں سے جو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں اور جو خدا سے غافل کر دیتے ہیں اعرض کرنے لگ جاتا ہے اور ایسے لوگوں کی گریہ وزاری اور تضرع اور ابتہال اور خدا کے حضور عاجزی کرنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص دین کی محبت کو دنیا کی محبت، حرص، لالچ اور عیش و عشرت سب پر مقدم کر لیتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک نیک فعل دوسرے نیک فعل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ایک بدفعل دوسرے بد فعل کو ترغیب دیتا ہے جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طبعاً وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں اور اس گندی دنیا سے نجات پا جاتے ہیں اور اس دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو کر خدا کی محبت ان میں پیدا ہو جاتی ہے جس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ هُم لِلزَّكوة فعِلُونَ یعنی وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہ ایک نتیجہ ہے عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ کا۔کیونکہ جب دنیا سے محبت ٹھنڈی ہو جائے گی تو اس کا لازمی نتیجہ ہو گا کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں گے اور خواہ قاروں کے خزانے بھی ایسے لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ پرواہ نہیں کریں گے اور خدا کی راہ میں دینے سے نہیں جھجکیں گے۔ہزاروں آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ زکوۃ نہیں دیتے یہاں تک کہ ان کی قوم کے بہت سے غریب اور مفلس آدمی تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں مگر وہ ان کی پرواہ بھی نہیں کرتے حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک چیز پر زکوۃ دینے کا حکم ہے یہاں تک کہ زیور پر بھی۔ہاں جواہرات وغیرہ چیزوں پر نہیں۔اور جو امیر ، نواب اور دولت مند لوگ ہوتے ہیں ان کو حکم ہے کہ وہ شرعی احکام کے بموجب اپنے خزانوں کا حساب کر کے زکوۃ دیں لیکن وہ نہیں دیتے اس لئے خدا فرماتا ہے کہ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ کی حالت تو ان میں جب پیدا ہوگی جب وہ زکوۃ بھی دیں گے گویا ز کوۃ کا دینا لغو سے اعراض کرنے کا ایک نتیجہ ہے۔۔پھر اس کے بعد وَ الَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حفظون فرما یا یعنی جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کریں گے۔لغو سے اعراض کریں گے اور زکوۃ ادا کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں گے کیونکہ جب ایک شخص دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ کسی اور کے مال کو ناجائز طریقہ سے کب حاصل کرنا چاہتا ہے اور کب چاہتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے حقوق کو دبالوں اور جب وہ مال جیسی عزیز چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا