تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 48
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸ سورة المؤمنون میں بعد ذکر پیدائش روحانی بیان فرمائے گئے ہیں۔اور یہ ایک علمی اعجاز ہے۔اور یہ علمی نکتہ قرآن شریف سے پہلے کسی کتاب میں مذکور نہیں ہے۔پس ان آیات کا آخری حصہ یعنی فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ بلا شبہ ایک علمی معجزہ کی جڑ ہے کیونکہ وہ ایک اعجازی موقعہ پر چسپاں کیا گیا ہے۔اور انسان کے لئے یہ بات ممکن نہیں کہ اپنے بیان میں ایسی اعجازی صورت پیدا کرے اور پھر اس پر آیت فَتَبَرَكَ اللَّهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِينَ چسپاں کرے۔اور اگر کوئی کہے کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ آیات مذکورہ بالا میں جو مقابلہ انسان کے مراتب پیدائش روحانی اور پیدائش جسمانی میں دکھلایا گیا ہے وہ علمی معجزہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ معجزہ اس کو کہتے ہیں کہ کوئی انسان اس کے مثل بنانے پر قادر نہ ہو سکے یا گذشتہ زمانہ میں قادر نہ ہو سکا ہو اور نہ بعد میں قادر ہونے کا ثبوت ہو۔پس ہم دعوئی سے کہتے ہیں کہ یہ بیان انسانی پیدائش کی دقیق فلاسفی کا جو قرآن شریف میں مندرج ہے یہ ایک ایسا بے مثل و مانند بیان ہے کہ اس کی نظیر پہلے اس سے کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی۔نہ اس زمانہ میں ہم نے سنا کہ کسی ایسے شخص کو جو قرآن شریف کا علم نہیں رکھتا اس فلاسفی کے بیان کرنے میں قرآن شریف سے تو ارد ہوا ہو۔اور جب کہ قرآن شریف اپنے جمیع معارف اور نشانوں اور فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے معجزہ ہونے کا دعوی کرتا ہے اور یہ آیات قرآن شریف کا ایک حصہ ہیں جو دعویٰ اعجاز میں داخل ہے پس اس کا بے مثل و مانند ثابت ہونا با وجود دعوی اعجاز اور طلب مقابلہ کے بلاشبہ معجزہ ہے۔(برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۸۵ تا ۲۴۴) جب تک انسان کتاب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اس کے مطابق عمل درآمد نہیں کرتا۔تب تک اس کی نمازیں محض وقت کا ضائع کرنا ہے۔قرآن مجید میں تو صاف طور پر لکھا ہے قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ في صلاتهم لخشِعُونَ یعنی جب دعا کرتے کرتے انسان کا دل پگھل جائے اور آستانہ الوہیت پر ایسے خلوص اور صدق سے گر جاوے کہ بس اسی میں محو ہو جاوے اور سب خیالات کو مٹا کر اسی سے فیض اور استعانت طلب کرے اور ایسی یکسوئی حاصل ہو جائے کہ ایک قسم کی رقت اور گداز پیدا ہو جائے تب فلاح کا دروازہ کھل جاتا ہے جس سے دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے کیونکہ دو محبتیں ایک جگہ جمع نہیں رہ سکتیں جیسے لکھا ہے ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں این خیال است و محال است و جنوں اسی لئے اس کے بعد ہی خدا فرماتا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یہاں لغو سے مراد دنیا ہے یعنی