تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 26

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۶ سورة المؤمنون بے ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ - یہ تو وجو دروحانی کا مرتبہ ششم ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور اس کے مقابل پر جسمانی پیدائش کا مرتبہ ششم ہے اور اس جسمانی مرتبہ کے لئے بھی وہی آیت ہے جو روحانی مرتبہ کے لئے اوپر ذکر ہو چکی ہے یعنی ثمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب ہم ایک پیدائش کو طیار کر چکے تو بعد اس کے ہم نے ایک اور پیدائش سے انسان کو پیدا کیا۔اور کے لفظ سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ وہ ایسی فوق الفہم پیدائش ہے جس کا سمجھنا انسان کی عقل سے بالا تر ہے اور اُس کے فہم سے بہت دُور یعنی روح جو قالب کی طیاری کے بعد جسم میں ڈالی جاتی ہے وہ ہم نے انسان میں روحانی اور جسمانی دونوں طور پر ڈال دی جو مجہول الکنہ ہے اور جس کی نسبت تمام فلسفی اور اس مادی دنیا کے تمام مقلد حیران ہیں کہ وہ کیا چیز ہے۔اور جب کہ حقیقت تک اُن کو راہ نہ ملی تو اپنی انکل سے ہر ایک نے تکیں لگائیں۔کسی نے روح کے وجود سے ہی انکار کیا۔اور کسی نے اس کو قدیم اور غیر مخلوق سمجھا۔پس اللہ تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ ”روح بھی خدا کی پیدائش ہے مگر دنیا کے فہم سے بالا تر ہے اور جیسا کہ اس دنیا کے فلاسفر اس رُوح سے بے خبر ہیں جو وجود جسمانی کے چھٹے مرتبہ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جسم پر فائض ہوتی ہے ویسا ہی وہ لوگ اس رُوح سے بھی بے علم رہے کہ جو وجود روحانی کے چھٹے مرتبہ پر مومن صادق کو خدا تعالیٰ سے ملتی ہے اور اس بارے میں بھی مختلف را ہیں اختیار کیں۔بہتوں نے ایسے لوگوں کی پوجا شروع کر دی جن کو وہ روح بھی دی گئی تھی اور ان کو قدیم اور غیر مخلوق اور خدا سمجھ لیا اور بہتوں نے اس سے انکار کر دیا کہ اس مرتبہ کے لوگ بھی ہوتے ہیں اور ایسی روح بھی انسان کو ملتی ہے۔لیکن اس بات کو بہت جلد ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جب کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور خدا نے زمین کے تمام پرند و چرند پر اس کو بزرگی دے کر اور سب پر حکومت بخش کر اور عقل و فہم عنایت فرما کر اور اپنی معرفت کی ایک پیاس لگا کر اپنے ان تمام افعال سے جتلا دیا ہے کہ انسان خدا کی محبت اور عشق کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو پھر اس سے کیوں انکار کیا جائے کہ انسان محبت ذاتیہ کے مقام تک پہنچ کر اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کی محبت پر خدا کی محبت ایک رُوح کی طرح وارد ہو کر تمام کمزوریاں اس کی دُور کر دے۔اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وجود روحانی کے ششم مرتبہ کے بارے میں فرمایا ہے وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ایسا ہی دائمی حضور اور سوز و گداز اور عبودیت انسان سے سرزد ہو اور اس طرح پر وہ اپنے وجود کی علت غائی کو