تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 421

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۱ سورة فاطر طرح طرح کی غلطیاں داخل ہوگئیں یہاں تک کہ اصل حقیقت انہیں غلطیوں کے نیچے چھپ گئی۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱۰ صفحه ۳۵۲) خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ کوئی آباد بستی اور ملک نہیں جس میں اس نے کوئی نبی نہ بھیجا ہوجیسا کہ وہ خود فرماتا ہے وَ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ یعنی کوئی ایسی امت نہیں جس میں خدا کا کوئی نبی نہ آیا ہو مگر ہم اس عقیدہ کو مجھ نہیں سکتے کہ باوجود خدا کے وسیع بلاد اور اقالیم کے جو سب اس کی ہدایت کے محتاج ہیں اور سب اس کے بندے ہیں پھر بھی خدا تعالیٰ کا قدیم سے آریہ ورت سے ہی تعلق رہا اور دوسری قومیں اس کی براہ راست ہدایت سے محروم رہی ہیں۔خدا کا موجودہ قانون بھی ہم اس کے برخلاف پاتے ہیں وہ دوسرے ممالک میں اب اپنی وحی اور الہام سے اپنے وجود کا پتہ دیتا ہے اپنے بندوں کی نسبت خدا کی طرف سے یہ پکش پات اور طرفداری اس کی ذات کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی۔جو شخص اس کی طرف دل اور جان سے رجوع کرے وہ بھی اس کی طرف رجوع برحمت کرتا ہے۔خواہ ہندی ہو خواہ عربی وہ کسی کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔اس کی رحمت عام ہے کسی خاص ملک سے محدود نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ جسمانی طور پر بھی خدا تعالیٰ کی نعمتیں ہر ایک جگہ پائی جاتی ہیں۔ہر ایک ملک میں پانی موجود ہے جیسا کہ آریہ ورت میں موجود ہے ہر ایک ملک میں اناج موجود ہے جیسا کہ آریہ ورت میں موجود ہے۔ہر ایک ملک میں وہ نعمتیں موجود ہیں جیسا کہ آریہ ورت میں موجود ہیں تو پھر جبکہ خدا نے جسمانی طور پر اپنے فیضان میں کسی قوم اور ملک سے فرق نہیں کیا تو کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ روحانی طور پر اس نے فرق کیا ہے۔اس کے سب بندے ہیں کیا کالے اور کیا گورے اور کیا ہندی اور کیا عربی۔پس یہ غیر محد و وصفات والا خدا کسی تنگ دائرہ میں محدود نہیں ہو سکتا اور اس کو محدود کر نا تنگ ظرفی اور نادانی ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰۴،۳۰۳) کوئی قوم نہیں جس میں ڈرانے والا نبی نہیں بھیجا گیا۔یہ اس لئے کہ تا ہر ایک قوم میں ایک گواہ ہو کہ خدا موجود ہے اور وہ اپنے نبی دنیا میں بھیجا کرتا ہے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۰) جیسا کہ خدا ہر ایک ملک کے باشندوں کے لئے ان کے مناسب حال ان کی جسمانی تربیت کرتا آیا ہے ایسا ہی اس نے ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم کو روحانی تربیت سے بھی فیضاب کیا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے وَ اِنْ مِنْ اُمَّةٍ إِلا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا گیا۔۔۔۔خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے یہ اس لئے ہوا