تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 420
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۰ سورة فاطر وَمَا يَسْتَوَى الْأَحْيَاء وَلَا الْاَمْوَاتُ إِنَّ اللهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِع مَنْ فِي الْقُبُورِ نور اور حیات سے مراد روح القدس ہے کیونکہ اس سے ظلمت دور ہوتی ہے اور وہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اسی لئے اس کا نام روح القدس ہے یعنی پاکی کی روح جس کے داخل ہونے سے ایک پاک زندگی حاصل آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۹) ہوتی ہے۔انا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا ۖ وَ إِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ان مِنْ أُمَّة الخَلَا فِيهَا نَذیر یعنی کوئی ملک آباد نہیں جس میں پیغمبر اور مصلح نہیں گزرا۔(۲۵) سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۹۳) کوئی بستی اور کوئی آباد ملک نہیں جس میں پیغمبر نہیں بھیجا گیا۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲۸) میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ اسلام کے سوائے باقی سب مذاہب کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی ہے۔میرا یہ ایمان ہے کہ وہ خدا جو تمام مخلوق کا خدا ہے وہ سب پر نظر رکھتا ہے اور جیسا وہ سب کی جسمانی ضروریات کو پورا کر رہا ہے ایسا ہی روحانی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔یہ سچ نہیں کہ دنیا کی ابتداء سے اس نے صرف ایک قوم کو ہی چن لیا ہے اور دوسروں کی کچھ پرواہ نہیں کی۔ہاں یہ سچ ہے کہ کبھی کسی قوم پر وہ وقت آ جاتا ہے اور کبھی کسی پر۔میں یہ باتیں کسی کو خوش کرنے کے لئے نہیں کہتا بلکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ راجہ رام چندر اور کرشن جی وغیرہ بھی خدا کے راست باز بندے تھے اور اس سے سچا تعلق رکھتے تھے۔میں اس شخص سے بیزار ہوں جو ان کی نند یا یا توہین کرتا ہے۔اس کی مثال کنوئیں کے مینڈک کی سی ہے جو سمندر کی وسعت سے ناواقف ہے۔جہاں تک ان لوگوں کے صحیح سوانح معلوم ہوتے ہیں ان سے پایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے خدا کی راہ میں بڑے بڑے مجاہدات کئے اور کوشش کی کہ اسی راہ کو پائیں جو خدائے تعالیٰ تک پہنچنے کی حقیقی راہ ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ وہ راست باز نہ تھے وہ قرآن شریف کے خلاف کہتا ہے کیونکہ اس میں فرمایا ہے إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ یعنی کوئی قوم اور امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی نذیر نہ آیا ہو۔پس اس میں شک نہیں کہ ابتداء میں ان تمام مذاہب کی بنیاد حق اور راستی پر تھی مگر مرور زمانہ سے ان میں