تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 379

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۹ سورة الاحزاب لاکن اینجا برائے استدراک آمده است اس جگہ لیکن کا لفظ استدراک کے لئے آیا ہے۔جب چوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیچ کس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے باپ نہیں تو وہی اعتراض کسی را پدر نیست پس ہماری اعتراض کہ ہر جو آپ کے دشمنوں پر کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ تمہارا دشمن دشمناں کرده شده و گفته که انَّ شَانِئَكَ هُوَ ابتر رہے گا۔یہ اعتراض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی الابتو بر آنحضرت هم لازم می آید گویا وارد ہوتا ہے گویا کہ اللہ تعالی اعتراض کرنے والے کی که خدا تعالی تصدیق معترض میکند برائے تصدیق کرتا ہے۔اس وہم کے ازالہ کے لئے فرمایا ہے ازاله این و هم فرموده است وَلَكِن رَّسُولَ وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کہ کوئی ابدال، قطب اور اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ یعنی هیچ ابدال و قطب ولی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے بغیر نہیں ہوگا۔دنیوی و اولیاء بجز ختم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکام کا یہی دستور ہے کہ اگر کسی کاغذ پر سرکاری مہر نہ ہو تو وہ نخواہد شد۔حکام را ہمیں حالت است کہ اسے صحیح نہیں سمجھتے۔جس شخص کو الہام اور مکالمہ الہی ہوتا ہے اگر بر کاغذ مهر سرکاری نشود صحیح نمی دانند هر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے ہوتا ہے اور ان معنی کی کسے راہ کہ الہام و مکالمہ البہی میشود از مهر رو سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے باپ ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم می شود و ازیں معنی غرض ایک معنی کے لحاظ سے نبوت کی نفی ہو جاتی ہے اور ایک رسول اللہ صلعم ہمہ را پدرست در یک معنی نفی معنی کے لحاظ سے نبوت کا اثبات ہو جاتا ہے اگر ہم کہیں کہ نبوت میشود و در یک معنی اثبات نبوۃ میشود سلسله افادات نبوی منقطع ہو گیا ہے اور اب کسی کو الہام اور اگر بگوئیم که سلسله افادات نبوی منقطع شدہ مکالمہ و مخاطبہ الہی نہیں ہوتا تو اسلام بالکل تباہ ہو جاتا ہے۔واکنوں کسے راہ الہام و مکالمہ و مخاطبہ الہی نمی ہمارے سلسلہ کی یہ مثال ہے کہ اگر کوئی آئینہ میں اپنی صورت شود همه اسلام تباه میشود سلسله مارا ایں مثال دیکھتا ہے تو اسے آئینہ میں جو صورت نظر آتی ہے وہ کوئی ست که اگر کسے در آئینہ صورت می بیند آنچہ دوسری صورت نہیں ہوتی بلکہ وہی ہے جو آئینہ کے سامنے در شیشه نظر می آید چیزی دیگر نیست ہماں ہے۔یہ لوگ اس آیہ کریمہ میں غور نہیں کرتے اور میں خوب است که پیش شیشه است این مردماں جانتا ہوں کہ یہ سب یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ مکالمات الہیہ کا در میں آیت کریمه خور نمی کنند و من خوب می سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔کلام کے معنے وحی کے ہیں۔قرآن دانم کہ ایں ہمہ عقیدہ میدارند کہ سلسلہ کریم میں الہام کا ذکر نہیں آیا وحی کا ذکر آیا ہے اور الہام اور الكوثر : ۴