تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 378
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۸ سورة الاحزاب جو اس دنیا میں اندھا ہوتا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھایا جاوے گا جس کو یہاں علم و بصیرت اور معرفت نہیں دی گئی اسے وہاں کیا علم ملے گا اللہ تعالیٰ کو دیکھنے والی آنکھ اسی دنیا سے لے جانی پڑتی ہے جو یہاں ایسی آنکھ پیدا نہیں کرتا اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھے گا۔لیکن جن لوگوں کو سچی معرفت اور بصیرت دی جاتی ہے اور وہ علم جس کا نتیجہ خشیت اللہ ہے عطا کیا جاتا ہے وہ وہ ہیں جن کو اس حدیث میں انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالی نے سچے علوم کا منبع اور سر چشمہ قرآن اس امت کو دیا ہے جو شخص ان حقائق و معارف کو پالیتا ہے جو قرآن شریف میں بیان کئے گئے ہیں اور جو حقیقی تقویٰ اور خشیتہ اللہ سے حاصل ہوتے ہیں اسے وہ علم ملتا ہے جو اس کو انبیاء بنی اسرائیل کا مثیل بنادیتا ہے۔(الکام جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۵) چونکہ آپ کو خاتم الانبیاء ٹھیرایا تھا اس لئے آپ کے وجود میں حرکات وسکنات میں بھی اعجاز رکھ دیئے تھے آپ کی طرز زندگی کہ الف - ب تک نہیں پڑھا اور قرآن جیسی بے نظیر نعمت لائے اور ایسا عظیم الشان معجزہ امت کو دیا۔الحکم جلد ۴ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۰ صفحه ۴) ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل شریعت لے کر آئے جو نبوت کے خاتم تھے اس لئے زمانہ کی استعدادوں اور قابلیتوں نے ختم نبوت کر دیا تھا۔پس حضور علیہ السلام کے بعد ہم کسی دوسری شریعت کے آنے کے قائل ہر گز نہیں۔ہاں جیسے ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ تھے اسی طرح آپ کے سلسلہ کا خاتم جو خاتم الخلفاء یعنی مسیح موعود ہے ضروری تھا کہ مسیح علیہ السلام کی طرح آتا۔پس میں وہی خاتم الخلفاء اور مسیح موعود ہوں۔جیسے مسیح کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ شریعتِ موسوی کے احیاء کے لئے آئے تھے میں کوئی جدید شریعت لے کر نہیں آیا اور میرا دل ہر گز نہیں مان سکتا کہ قرآن شریف کے بعد اب کوئی اور شریعت آسکتی ہے کیونکہ وہ کامل شریعت اور خاتم الکتب ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے شریعت محمدی کے احیاء کے لئے اس صدی میں خاتم الخلفاء کے نام سے مبعوث فرمایا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۷ امور محد ۱۰ رمئی ۱۹۰۱ صفحہ ۳،۲) کمال نبی کا کمالِ امت کو چاہتا ہے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین تھے صلی اللہ علیہ وسلم۔اس لئے آنحضرت پر کمالات نبوت ختم ہوئے۔کمالات نبوت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم نبوت ہوا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴/ جون ۱۹۰۱ صفحه ۱۱،۱۰)