تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 350

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۰ سورة الاحزاب میں داخل ہیں۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِلَى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف : ۱۵۹) پس اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن کریم ہر یک استعداد کی تکمیل کے لئے نازل ہوا ہے اور درحقیقت آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِین میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔(کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۶۱) جیسا کہ یہ عقیدہ حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر چڑھنے کا قرآن شریف کے بیان سے مخالف ہے ایسا ہی اُن کے آسمان سے اترنے کا عقیدہ بھی قرآن کے بیان سے منافات کھلی رکھتا ہے کیونکہ قرآن شریف جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى (المائدة : ۱۱۸) اور آیت قَد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران : ۱۴۵) میں حضرت عیسی کو مار چکا ہے۔ایسا ہی آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة : ۴) اور آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن میں صریح نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الا بنیاء ہیں جیسا کہ فرمایا ہے وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ لیکن وہ لوگ جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں واپس لاتے ہیں اُن کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر پینتالیس برس تک اُن پر جبرئیل علیہ السلام وحی نبوت لے کر نازل ہوتا رہے گا۔اب بتلاؤ کہ اُن کے عقیدہ کے موافق ختم نبوت اور ختم وحی نبوت کہاں باقی رہا بلکہ ماننا پڑا کہ خاتم الانبیاء حضرت عیسی ہیں۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۷۳، ۱۷۴) إِذَا كَانَ نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَا شَكَ أَنَّهُ مَنْ آمَن تو وہ شخص جو اس مسیح کے نزول کو مانتا ہے جو بنی اسرائیل کا ينزولِ الْمَسِيحِ الَّذِي هُوَ نَبِی فِین اپنی ایک نبی ہے تو بے شک وہ خاتم النبین کی نص کا إِسْرَائِيلَ فَقَدْ كَفَرَ بِهِ النَّبِيِّينَ فَيا منکر ہو گیا۔پس افسوس ہے ان لوگوں پر جو یہ کہتے کہ حَسْرَةً عَلى قَوْمٍ يَقُولُونَ إِنَّ الْمَسِيحَ عِيسَى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیح عیسی بْنَ مَرْيَمَ نَازِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ بن مریم نازل ہوگا۔نیز وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ آکر قرآن وَيَقُولُونَ إِنَّهُ يَجِنِى وَيَنْسَحُ مِنْ بَعْضِ کریم کے بعض احکام کو منسوخ کرے گا اور بعض پر أَحْكامِ الْفُرْقَانِ وَيَزِيدُ عَلَيْهَا وَيَنْزِلُ عَلَيْهِ اضافے کرے گا اور اس پر چالیس سال تک وحی الْوَحْى أَرْبَعِينَ سَنَةً وَهُوَ خَاتَمُ الْمُرْسَلِينَ نازل ہوتی رہے گی اور وہ خاتم المرسلین ہوگا حالانکہ۔