تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 337
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۷ سورة الاحزاب ہرگز ہرگز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر نہیں کرتا۔وہ اس دعوی میں جھوٹا ہے اگر کہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو اور پھر صحابہ سے دشمنی۔الحکم جلد ۸ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۴ صفحه ۲) قرآن شریف نے صحابہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے مِنْهُمْ مَنْ قَلَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ ينتظر یعنی بعض صحابہ میں سے ایسے ہیں جو اپنی جان دے چکے ہیں اور بعض ابھی منتظر ہیں جب تک اس مقام پر انسان نہیں پہنچتا با مراد نہیں ہوسکتا۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ۱۹ مورخه ۱۶٫۸ رمئی ۱۹۰۴ صفحه ۱۰) خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں نے بار بار حملے کئے مگر انہوں نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔خدا تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا یعنی جس ایمان پر انہوں نے کمر ہمت باندھی تھی اس کو بعض نے تو نبھا دیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقع ملے اور سرخرو ہوں اور انہوں نے بھی کم ہمتی اور بزدلی نہیں دکھائی۔ج ( بدر جلد نمبر ۸ مورخه ۲۵ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۶) خدا تعالیٰ نے صحابہ کی تعریف میں کیا خوب فرمایا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو سچا کر دکھایا جو انہوں نے خدا کے ساتھ کیا تھا۔سو ان میں سے بعض اپنی جانیں دے چکے اور بعض جانیں دینے کو طیار بیٹھے ہیں۔صحابہ کی تعریف میں قرآن شریف سے آیات اکٹھی کی جائیں تو اس سے بڑھ کر کوئی اسو ہ حسنہ نہیں۔( بدر جلد نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ء صفحه ۳) صحابہ یہ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریں خواہ اس راہ میں کیسی ہی تختیاں اور تکلیفیں اُٹھانی پڑیں۔اگر کوئی مصائب اور مشکلات میں نہ پڑتا اور اسے دیر ہوتی تو وہ روتا اور چلاتا تھا۔وہ سمجھ چکے تھے کہ ان ابتلاؤں کے نیچے خدا تعالیٰ کی رضا کا پروانہ اور خزانہ مخفی ہے۔ہر بلاکیں قوم راحق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے اسے کھول کر دیکھو۔صحابہ کی زندگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا عملی ثبوت تھا۔صحابہ جس مقام پر پہنچے تھے اس کو قرآن شریف میں اس طرح پر بیان فرمایا