تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 333
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۳ سورة الاحزاب جبکہ صرف منہ کے کہنے سے کوئی عورت ماں یا دادی نہیں بن سکتی تو پھر صرف منہ کی بات سے کوئی غیر کا نطفہ بیٹا کیوں کر بن سکتا ہے اور کیوں کر قبول کیا جاتا ہے کہ در حقیقت بیٹا ہو گیا اور اس کی عورت اپنے پر حرام ہوگئی خدا کے کلام میں اختلاف نہیں ہوسکتا پس بلاشبہ یہ بات صحیح ہے کہ اگر صرف منہ کی بات سے ایک آریہ کی عورت اس کی ماں نہیں بن سکتی تو اسی طرح صرف منہ کی بات سے غیر کا بیٹا بیٹا بھی نہیں بن سکتا۔( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۸ تا ۶۰) إذْ جَاءُوكَمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ إِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ القُلوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا اسلام کی لڑائیاں ایسے طور سے نہیں ہوئیں کہ جیسے ایک زبر دست بادشاہ کمز ور لوگوں پر چڑھائی کر کے ان کو قتل کر ڈالتا ہے بلکہ صحیح نقشہ ان لڑائیوں کا یہ ہے کہ جب ایک مدت دراز تک خدا تعالیٰ کا پاک نبی اور اس کے پیر ومخالفوں کے ہاتھ سے دکھ اُٹھاتے رہے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور کئی برے برے عذابوں سے مارے گئے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم کے قتل کرنے کے لئے منصوبہ کیا گیا اور یہ تمام کامیابیاں ان کے بتوں کے معبود برحق ہونے پر حمل کی گئیں اور ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلعم کو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لئے آئے تو اس وقت ان کے حملہ کے روکنے کے لئے اور نیز ان لوگوں کو امن میں لانے کے لئے جو ان کے ہاتھ میں قیدیوں کی طرح تھے اور نیز اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ ان کے معبود جن کی تائید پر یہ سابقہ کامیابیاں حمل کی گئیں ہیں لڑائیاں کرنے کا حکم ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔۔اِذْ جَاءُوكُم مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ - (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۴۵،۲۴۴) هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَ الَّا شَدِيدًا انبیاء ورسل کے سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درمیان میں ہمیشہ مکروہات آجایا کرتے ہیں۔طرح طرح کی ناکامیاں پیش آتی ہیں۔زُلْزِلُوا زِلْزَالاً شَدِيدًا سے معلوم ہوتا ہے کہ حد درجہ کی ناکامی کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں لیکن یہ شکست اور ہزیمت نہیں ہوا کرتی ابتلاء میں مامور کاصبر واستقلال اور جماعت