تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 332

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۲ سورة الاحزاب ج ط میں آیا۔تو اب ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے یہ فیصلہ اس قانون کے مطابق کیا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔قرآن کھولو اور دیکھو کہ زینب کا قصہ آخری حصہ قرآن میں ہے مگر یہ قانون کہ متمنی کی جور و حرام نہیں ہو سکتی یہ پہلے حصہ میں ہی موجود ہے اور اس وقت کا یہ قانون ہے کہ جب زینب کا زید سے ابھی نکاح بھی نہیں ہوا تھا تم آپ ہی قرآن شریف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کود یکھ لو اور ذرہ شرم کو کام میں لاؤ۔اور پھر بعد اس کے سورۃ الاحزاب میں فرمایا مَا جَعَلَ اللهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ۚ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الَّى تُظهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللهُ يَقُولُ الْحَقِّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لأَيَّابِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ یعنی خدا تعالیٰ نے کسی کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے پس اگر تم کسی کو کہو کہ تو میرا دل ہے تو اس کے پیٹ میں دو دل نہیں ہو جائیں گے دل تو ایک ہی رہے گا اسی طرح جس کو تم ماں کہہ بیٹھے وہ تمہاری ماں نہیں بن سکتی اور اسی طرح خدا نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقت میں تمہارے بیٹے نہیں کر دیا۔یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور خدا سچ کہتا ہے اور سیدھی راہ دکھلاتا ہے تم اپنے منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو یہ تو قرآنی تعلیم ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ اپنے پاک نبی کا نمونہ اس میں قائم کر کے پورانی رسم کی کراہت کو دلوں سے دور کر دے سو یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے قائم کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام آزاد کردہ کی بیوی کی اپنے خاوند سے سخت نا سازش ہوگئی آخر طلاق تک نوبت پہنچی۔پھر جب خاوند کی طرف سے طلاق مل گئی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیوند نکاح کر دیا۔اور خدا تعالیٰ کے نکاح پڑھنے کے یہ معنے نہیں کہ زینب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایجاب قبول نہ ہوا اور جبر خلاف مرضی زینب کے اس کو گھر میں آباد کر لیا یہ تو ان لوگوں کی بدذاتی اور ناحق کا افترا ہے جو خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے بھلا اگر وہ سچے ہیں تو اس افترا کا حدیث صحیح یا قرآن سے ثبوت تو دیں۔اتنا بھی نہیں جانتے کہ اسلام میں نکاح پڑھنے والے کو یہ منصب نہیں ہوتا کہ جبراً نکاح کر دے بلکہ نکاح پڑھنے سے پہلے فریقین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔اب خلاصہ یہ کہ صرف منہ کی بات سے نہ تو بیٹا بن سکتا ہے نہ ماں بن سکتی ہے۔مثلاً ہم آریوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی شخص غصہ میں آکر یا کسی دھوکہ سے اپنی عورت کو ماں کہ بیٹھے تو کیا اس کی عورت اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق پڑ جائے گی اور خود یہ خیال بالبداہت باطل ہے کیونکہ طلاق تو آریوں کے مذہب میں کسی طور سے پڑہی نہیں سکتی خواہ اپنی بیوی کو نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ ماں کہہ دیں یا دادی کہہ دیں۔تو پھر