تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 295
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ سورة الروم اقرار کی طرف اشارہ ہے اور نیز فرمایا وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ الجزو نمبر ۲۷۔(الذاریات : ۵۷ ) یعنی میں نے جن وانس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری پرستش کریں۔یہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ پرستش الہی ایک فطرتی امر ہے۔پس جب توحید الہی اور پرستش الہی سب بنی آدم کے لئے فطرتی امر ہوا اور کوئی آدمی سرکشی اور بے ایمانی کے لئے پیدا نہ کیا گیا تو پھر جوامور بر خلاف خدا دانی و خداترسی ہیں کیوں کر فطرتی امر ہو سکتے ہیں۔یہ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط نہی ہے کیونکہ وہ امر جو آیات مندرجہ بالا سے ثابت ہوتا ہے وہ تو صرف اسی قدر ہے کہ انسان کی فطرت میں رجوع الی اللہ اور اقرار وحدانیت کا تختم بویا گیا۔یہ کہاں آیات موصوفہ میں لکھا ہے کہ وہ ختم ہر ایک فطرت میں مساوی ہے بلکہ جابجا قرآن شریف میں اسی بات کی تصریح ہے کہ وہ تخم بنی آدم میں متفاوت المراتب ہے۔کسی میں نہایت کم۔کسی میں متوسط کسی میں نہایت زیادہ۔جیسا ایک جگہ فرمایا ہے ج فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ ۚ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِل وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ الجز و نمبر ۲۲۔(فاطر : ۳۳) یعنی بنی آدم کی فطرتیں مختلف ہیں۔بعض لوگ ظالم ہیں جن کے نور فطرتی کو قوی بہیمیہ یا غضمیہ نے دبایا ہوا ہے۔بعض درمیانی حالت میں ہیں۔بعض نیکی اور رجوع الی اللہ میں سبقت لے گئے ہیں۔اسی طرح بعض کی نسبت فرمایا۔وَاجتَبينهم - الجزو نمبرے۔(الانعام : ۸۸) اور ہم نے ان کو چن لیا یعنی وہ باعتبار اپنی فطرتی قوتوں کے دوسروں میں سے چیدہ اور برگزیدہ تھے۔اس لئے قابل رسالت و نبوت ٹھہرے۔اور بعض کی نسبت فرما يا أوتيك كالأنعام - الجزو نمبر ۹ (الاعراف : ۱۸۰ ) یعنی ایسے ہیں جیسے چار پائے اور نور فطرتی ان کا اس قدر کم ہے کہ ان میں اور مویشی میں کچھ تھوڑا ہی فرق ہے۔پس دیکھنا چاہیئے کہ اگر چہ خدائے تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم تو حید ہر یک نفس میں موجود ہے۔لیکن ساتھ ہی اُس کے یہ بھی کئی مقامات میں کھول کر بتلا دیا ہے کہ وہ تم سب میں مساوی نہیں۔بلکہ بعض کی فطرتوں پر جذبات نفسانی ان کے ایسے غالب آگئے ہیں کہ وہ نور کا مفقود ہو گیا ہے۔پس ظاہر ہے کہ قوی بہیمیہ یا غضبیہ کا فطرتی ہونا وحدانیت الہی کے فطرتی ہونے کو منافی نہیں ہے خواہ کوئی کیسا ہی ہوا پرست اور نفس انارہ کا مغلوب ہو پھر بھی کسی نہ کسی قدر نور فطرتی اس میں پایا جاتا ہے۔مثلاً جو شخص بوجہ غلبہ قوائے شہو یہ یا غضبیہ چوری کرتا ہے یا خون کرتا ہے یا حرام کاری میں مبتلا ہوتا ہے تو اگر چہ یہ فعل اس کی فطرت کا مقتضا ہے لیکن ہمقابلہ اُس کے نور صلاحیت جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے وہ اس کو اسی وقت جب اس سے کوئی حرکت بے جا صادر ہو جائے ملزم کرتا ہے جس