تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 284
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۴ سورة العنكبوت کا بدوں کوشش اور آبپاشی کے بے برکت رہتا بلکہ خود بھی فنا ہو جاتا ہے۔اسی طرح تم بھی اس اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے اور دعائیں نہ مانگو گے کہ خدا یا ہماری مدد کر تو فضل الہی وارد نہیں ہوگا اور بغیر امداد الہی کے تبدیلی القام جلد ۸ نمبر ۳۹٬۳۸ مورخه ۱۰ تا ۷ انومبر ۱۹۰۴ صفحه ۶) ناممکن ہے۔مثل مشہور ہے جو بندہ یا بندہ۔جو شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اس کے لئے کھولا جاتا ہے اور قرآن شریف میں بھی فرمایا گیا ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہماری طرف آتے ہیں اور ہمارے لئے مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کے واسطے اپنی راہ کھول دیتے ہیں اور صراط مستقیم پر چلا دیتے ہیں۔لیکن جو شخص کوشش ہی نہیں کرتا وہ کس طرح اس راہ کو پا سکتا ہے۔خدا یا بی اور حقیقی کامیابی اور نجات کا یہی گر اور اصول ہے۔انسان کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرنے سے تھکے نہیں۔نہ در ماندہ ہو اور نہ اس راہ میں کوئی کمزوری ظاہر کرے۔(احکم جلد ۸ نمبر ۴۲،۴۱ مورخه ۱۳۰ نومبر تا۰ اردسمبر ۱۹۰۴ صفحه ۶- احکم جلد ۸ نمبر ۴۳، ۴۴ مورخه ۱۷ تا۲۴ دسمبر ۱۹۰۴ صفحه ۳) جو شخص خدا کی طرف رجوع کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف رجوع کرے گا۔ہاں یہ ضروری ہے کہ جہاں تک بس چل سکے وہ اپنی طرف سے کوتا ہی نہ کرے۔پھر جب اس کی کوشش اس کے اپنے انتہائی نکتہ پر پہنچے گی تو وہ خدا کے نور کو دیکھ لے گا۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو حق کوشش کا اس کے ذمہ ہے اسے بجالائے یہ نہ کرے کہ اگر پانی ۲۰ ہاتھ نیچے کھودنے سے نکلتا ہے تو وہ صرف ۲ ہاتھ کھود کر ہمت ہار دے۔ہر ایک کام میں کامیابی کی یہی جڑ ہے کہ ہمت نہ ہارے۔پھر اس امت کے لئے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی پورے طور سے دعا وتزکیہ نفس سے کام لے گا سب وعدے قرآن شریف کے اس کے ساتھ پورے ہو کر رہیں گے۔ہاں جو خلاف کرے گا وہ محروم رہے گا کیونکہ اس کی ذات غیور ہے اس نے اپنی طرف آنے کی راہ ضرور رکھی ہے لیکن اس کے دروازے تنگ بنائے ہیں پہنچتا وہی ہے جو تلخیوں کا شربت پی لیوے۔لوگ دنیا کی فکر میں درد برداشت کرتے ہیں حتی کہ بعض اسی میں ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن اللہ تعالی کے لئے ایک کانٹے کی درد بھی برداشت کرنا پسند نہیں کرتے۔جب تک اس کی طرف سے صدق اور صبر اور وفاداری کے آثار ظاہر نہ ہوں تو ادھر سے رحمت کے آثار کیسے ظاہر ہوں۔البدر جلد ۴ نمبر ۳ مورخه ۲۰/جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۳) جو لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی محنت اور مشقت نہ کرنی پڑے وہ بیہودہ خیال کرتے ہیں۔اللہ تعالی نے