تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 283
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۳ قدر ہدایت تدابیر کو عمل میں لانے کے واسطے کی گئی ہے۔تدابیر میں بھی خدا کو نہ چھوڑے۔سورة العنكبوت الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰/ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا میں مجاہدہ سے مراد یہی مشق ہے کہ ایک طرف دعا کرتا رہے دوسری طرف کامل تدبیر کرے۔آخر اللہ تعالیٰ کا فضل آجاتا ہے اور نفس کا جوش و خروش دب جاتا اور ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور ایسی حالت ہو جاتی ہے جیسے آگ پر پانی ڈال دیا جاوے بہت سے انسان ہیں جو نفس امارہ ہی میں مبتلا ہیں۔الکام جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ر مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۸) گناہوں سے پاک ہونے کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ ہی کا فضل درکار ہے۔جب اللہ تعالیٰ اس کے رجوع اور تو بہ کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں غیب سے ایک بات پڑ جاتی ہے اور وہ گناہ سے نفرت کرنے لگتا ہے اور اس حالت کے پیدا ہونے کے لئے حقیقی مجاہدہ کی ضرورت ہے۔وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سبلنا جو مانگتا ہے اسی کو ضرور دیا جاتا ہے اسی لئے میں کہتا ہوں کہ دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔الحکام جلد ۸ نمبر ۸ مورخہ ۱۰/ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) خدا تعالیٰ کا یہ سچا وعدہ ہے کہ جو شخص صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ اس کی راہ کی تلاش کرتے ہیں وہ ان پر ہدایت ومعرفت کی راہیں کھول دیتا ہے جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔ہم میں ہو کر سے یہ مراد ہے کہ محض اخلاص اور نیک نیتی کی بناء پر خدا جوئی اپنا مقصد رکھ کر۔لیکن اگر کوئی استہزاء اور ٹھٹھے کے طریق پر آزمائش کرتا ہے وہ بد نصیب محروم رہ جاتا ہے۔پس اسی پاک اصول کی بناء پر اگر تم سچے دل سے کوشش کرو اور دعا کرتے رہو تو وہ غفور الرحیم ہے لیکن اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی پروا نہیں کرتا وہ احکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۴ صفحه ۲) جس قدر کاروبار دنیا کے ہیں سب میں اول انسان کو کچھ کرنا پڑتا ہے۔جب وہ ہاتھ پاؤں ہلاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت ڈال دیتا ہے۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی راہ میں وہی لوگ کمال حاصل کرتے ہیں جو مجاہدہ کرتے ہیں اس لئے فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔پس کوشش کرنی چاہیے کیونکہ مجاہدہ ہی کامیابیوں کی راہ ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخه ۱۰ تا ۱۷ رنومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳) جولوگ کوشش کرتے ہیں ہماری راہ میں انجام کا راہنمائی پر پہنچ جاتے ہیں۔جس طرح وہ دانہ تخم ریزی بے نیاز ہے۔