تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 272
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۲ سورة العنكبوت تم پر وارد ہوا تو وہ تمہیں ہلاک کرے گا۔پس کیوں تم ناحق اپنا مرنا ہی چاہتے ہو اور اگر تم عذاب ہی مانگتے ہو تو یا درکھو کہ وہ بھی جلد آئے گا۔پس اللہ جل شانہ نے ان آیات میں عذاب کے نشان کا وعدہ دیا اور قرآن شریف میں جو رحمت کے نشان ہیں اور دلوں پر وارد ہو کر اپنا خارق عادت اثر ان پر ظاہر کرتے ہیں ان کی طرف توجہ دلائی۔پر معترض کا یہ گمان کہ اس آیت میں لا نافیہ جنس معجزات کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔جس سے کل معجزات کی نفی لازم آتی ہے۔محض صرف و نحو سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔یادرکھنا چاہئے کہ نفی کا اثر اُسی حد تک محدود ہوتا ہے جو متکلم کے ارادہ میں متعین ہوتی ہے۔خواہ وہ ارادہ تصریحاً بیان کیا گیا ہو یا اشارۃ۔مثلاً کوئی کہے کہ اب سردی کا نام و نشان باقی نہیں رہا، تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے بلدہ کی حالت موجودہ کے موافق کہا ہے اور گو اس نے بظاہر اپنے شہر کا نام بھی نہیں لیا مگر اس کے کلام سے یہ سمجھنا کہ اس کا یہ دعوی ہے کہ کل کو ہستانی ملکوں سے بھی سردی جاتی رہی اور سب جگہ سخت اور تیز دھوپ پڑنے لگی اور اس کی دلیل یہ پیش کرنا کہ جس لا کو اس نے استعمال کیا ہے وہ نفی جنس کالا ہے۔جس کا تمام جہان پر اثر پڑنا چاہئے، درست نہیں۔مکہ کے مغلوب بت پرست جنہوں نے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آنجناب کے معجزات کو معجزہ کر کے مان لیا اور جو کفر کے زمانہ میں بھی صرف خشک منکر نہیں تھے بلکہ روم اور ایران میں بھی جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو متعجبانہ خیال سے ساحر مشہور کرتے تھے اور گوبے جا پیرایوں میں ہی سہی، مگر نشانوں کا اقرار کر لیا کرتے تھے۔جن کے اقرار قرآن شریف میں موجود ہیں۔وہ اپنے ضعیف اور کمزور کلام میں جو انوار ساطعہ نبوت محمدیہ کے نیچے دبے ہوئے تھے کیوں لا نافیہ استعمال کرنے لگے۔اگر ان کو ایسا ہی لمبا چوڑا انکار ہوتا تو وہ بالآخر نہایت درجہ کے یقین سے جو انہوں نے اپنے خونوں کے بہانے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے سے ثابت کر دیا تھا مشرف بالاسلام کیوں ہو جاتے ؟ اور کفر کے ایام میں جو اُن کے بار بار کلمات قرآن شریف میں درج ہیں وہ یہی ہیں کہ وہ اپنی کو تہ بینی کے دھوکہ سے آنحضرت صلی اللہ دو، علیہ وسلم کے نام ساحر رکھتے تھے۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرُ مُسْتَر ( القمر : ۳) یعنی جب کوئی نشان دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ پکا جادو ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُمْ مُنْذِرُ مِنْهُمْ وَ قَالَ الكَفِرُونَ هذا سحرُ كَذَّابٌ ( ص : ٥) یعنی انہوں نے اس بات سے تعجب کیا کہ انہیں میں سے ایک شخص اُن کی طرف بھیجا گیا اور بے ایمانوں نے کہا کہ یہ تو جادو گر کذاب ہے۔اب ظاہر ہے کہ جبکہ وہ نشانوں کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر