تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 268

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ سورة العنكبوت وَ كَذلِكَ اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ فَالَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۚ وَمِنْ هؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ وَمَا يَجْحَدُ بِأَيْتِنَا إِلَّا الْكَفِرُونَ وَمَا كُنتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَب وَلَا تَخْطُهُ بِيَمِينِكَ إِذَ الأَرْتَابَ الْمُبْطِلُونَ بَلْ هُوَ ايتَ بَيِّن فِي صُدُورِ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِأَيْتِنَا إِلَّا الظَّلِمُونَ ۲۳ ج ط - مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآن بائبل کی نقل ہے اس سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی بیبا کی اور دروغ گوئی میں کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے دنیا میں کوئی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ قرآن شریف تیس برس برابر یہود اور نصاریٰ کے رو برواتر تا رہا مگر کسی نے یہ اعتراض نہ کیا کہ قرآن شریف بائبل کی نقل ہے اور خود ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمّی تھے اور نہ لکھ سکتے تھے اور نہ پڑھ سکتے تھے اور نصاریٰ اور یہود کے علماء سخت دشمن تھے اس صورت میں کیوں کر ممکن تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نصاری اور یہود کی کتابوں میں سے کچھ نقل کر سکتے تھے چنانچہ اس بارے میں قرآن شریف میں یہ آیات ہیں وَ كَذلِكَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الكتب، فَالَّذِينَ أتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَ مِنْ هَؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ وَمَا يَجْحَدُ بِأَيْتِنَا إِلَّا الْكَفِرُونَ - وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَبِ وَلَا تَخْطُهُ بِيَمِينِكَ إِذَا لَأَرْتَابَ الْمُبْطِلُونَ - بَلْ هُوَ اين بَيْنَتُ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ وَ مَا يَجْحَدُ بِأَيْتِنَا إِلَّا الظَّلِمُونَ الجز ونمبر ۲۱ سورۃ العنکبوت ( ترجمہ ) اور اے پیغمبر ! جس طرح اگلے پیغمبروں پر ہم نے کتا میں اتاری تھیں اسی طرح تجھ پر یہ کتاب اُتاری ہے۔پس جن کو تجھ سے پہلے ہم نے کتاب دی ہے اُن کے سمجھدار اور سعید لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان مشرکین اہل مکہ سے بھی سوچنے والے لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان دونوں فرقوں میں سے وہ لوگ ایمان نہیں لاتے جنہوں نے دیدہ و دانستہ کفر کو اپنے لئے اختیار کر لیا ہے۔اور اے پیغمبر ! قرآن سے پہلے نہ تو تم کوئی کتاب ہی پڑھتے تھے اور نہ تم اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ سکتے تھے اگر ایسا ہوتا تو ان بے دین لوگوں کو شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہوتی مگر اب تو اُن کا شبہ سراسر ہٹ دھرمی ہے یعنی جبکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محض ناخواندہ اور اُقی تھے اور کوئی نہیں ثابت کر سکا کہ آپ لکھ سکتے یا پڑھ سکتے تھے تو پھر ایسے شبہات ایمانداری کے برخلاف ہیں اور پھر فرمایا کہ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو قرآن شریف کے حقائق اور معارف کا علم دیا گیا ہے اُن کے نزدیک تو قرآن شریف خدا کے کھلے