تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 253
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۳ سورة العنكبوت کچھ ہی کیوں نہ ہو کسی کی پرواہ نہ کی جاوے۔مگر دیکھو اب کس قدر ایسے لوگ ہیں جو اپنے اقرار کو پورا کرتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کو آزمانا چاہتے ہیں۔پس یہی سمجھ رکھا ہے کہ اب ہمیں مطلقاً کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور ایک پر امن زندگی بسر ہو حالانکہ انبیاؤوں اور قطبوں پر مصائب آئے اور وہ ثابت قدم رہے مگر یہ ہیں کہ ہر ایک تکلیف سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔بیعت کیا ہوئی گویا خدا تعالیٰ کو رشوت دینی ہوئی حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ یعنی کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ فقط کلمہ پڑھ لینے پر ہی چھوڑ دیئے جاویں گے اور ان کو ابتلاؤں میں نہیں ڈالا جاوے گا۔پھر یہ لوگ بلاؤں سے کیسے بیچ سکتے ہیں۔ہر ایک شخص کو جو ہمارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے جان لینا چاہیے کہ جب تک آخرت کے سرمایہ کا فکر نہ کیا جاوے کچھ نہ بنے گا اور یہ ٹھیکہ کرنا کہ ملک الموت میرے پاس نہ پھٹکے۔میرے کنبے کا نقصان نہ ہو میرے مال کا بال بیکا نہ ہو۔ٹھیک نہیں ہے۔خود شرط وفا دکھلاوے اور ثابت قدمی وصدق سے مستقل رہے۔اللہ تعالیٰ مخفی راہوں سے اس کی رعایت کرے گا۔اور ہر ایک قدم پر ان کا مددگار بن جاوے گا۔احکام جلدے نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۰) جب اللہ تعالیٰ کسی آسمانی سلسلہ کو قائم کرتا ہے تو ابتلاء اس کی جزو ہوتے ہیں۔جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے کہ اس پر کوئی نہ کوئی ابتلاء آوے تا کہ اللہ تعالیٰ سچے اور مستقل مزاجوں میں امتیاز کر دے اور صبر کرنے والوں کے مدارج میں ترقی ہو۔ابتلاء کا آنا بہت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے احب النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا کہنے پر ہی چھوڑ دیئے جاویں کہ ہم ایمان لائے اور ان پر کوئی ابتلاء نہ آوے ایسا کبھی نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ وہ غداروں اور کچوں کو الگ کر دے۔پس ایمان کے بعد ضروری ہے کہ انسان دکھ اُٹھا دے بغیر اس کے ایمان کا کچھ مزا ہی نہیں ملتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو کیا کیا مشکلات پیش آئیں اور انہوں نے کیا کیا دکھ اُٹھائے۔آخر ان کے صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے مدارج اور مراتب عالیہ عطا کئے۔انسان جلد بازی کرتا ہے اور ابتلاء آتا ہے تو اس کو دیکھ کر گھبرا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ دنیا ہی رہتی ہے اور نہ دین ہی رہتا ہے مگر جو صبر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور ان پر انعام واکرم کرتا ہے اس لئے کسی ابتلاء پر گھبرانا نہیں چاہیے۔ابتلاء مومن کو اللہ تعالیٰ کے اور بھی قریب کر دیتا ہے اور اس کی وفاداری کو مستحکم بناتا ہے لیکن کچھے اور غدار کو الگ کر دیتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۳ صفحه ۴)