تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 252

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۲ سورة العنكبوت اور پکوں میں امتیاز ہو اور مومنوں اور منافقوں میں بین فرق نمودار ہو اسی لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ یہ لوگ یہ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی کہنے پر نجات پا جائیں کہ ہم ایمان لائے اور ان کا کوئی امتحان نہ ہو یہ بھی نہیں ہوتا۔دنیا میں بھی امتحان اور آزمائش کا سلسلہ موجود ہے جب دنیوی نظام میں یہ نظیر موجود ہے تو روحانی عالم میں یہ کیوں نہ ہو؟ بغیر امتحان اور آزمائش کے حقیقت نہیں کھلتی۔آزمائش کے لفظ سے یہ بھی دھوکا نہ کھانا چاہےکہ اللہ تعالیٰ کو جو عالم الغیب اور يَعْلَمُ السّر وَالْخَفی ہے۔امتحان یا آزمائش کی ضرورت ہے اور بدوں امتحان اور آزمائش کے اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ایسا خیال کرنا نہ صرف غلطی ہے بلکہ کفر کی حد تک پہنچتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان صفات کا انکار ہے۔امتحان یا آزمائش سے اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ تا حقائق مخفیہ کا اظہار ہو جاوے اور شخص زیر امتحان پر اس کی حقیقت ایمان منکشف ہو کر اسے معلوم ہو جاوے کہ وہ کہاں تک اللہ کے ساتھ صدق ، اخلاص اور وفا رکھتا ہے اور ایسا ہی دوسرے لوگوں کو اس کی خوبیوں پر اطلاع ملے۔پس یہ خیال باطل ہے اگر کوئی کرے کہ اللہ تعالیٰ جو امتحان کرتا ہے تو اس سے پایا جاتا ہے کہ اس کو علم نہیں اس کو تو ذرہ ذرہ کا علم ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ایک آدمی کی ایمانی کیفیتوں کے اظہار کے لئے اس پر ابتلاء آویں اور وہ امتحان کی چکی میں پیسا جاوے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است ابتلاؤں اور امتحانوں کا آنا ضروری ہے بغیر اس کے کشف حقائق نہیں ہوتا۔الحکم جلد۷ نمبر ۶ مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۱) تھوڑے ابتلا کا ہونا ضروری ہے جیسے لکھا ہے احسب النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا اَحَسِبَ يُفْتَنُونَ۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرف تو مکہ میں فتح کی خبریں دی جاتی تھیں اور ایک طرف ان کو جان کی بھی خیر نظر نہ آتی تھی۔اگر نبوت کا دل نہ ہوتا تو خدا جانے کیا ہوتا۔یہ اسی دل کا حوصلہ تھا۔بعض ابتلا صرف تبدیلی کے واسطے ہوتے ہیں۔عملی نمونے ایسے اعلیٰ درجہ کے ہوں کہ ان سے تبدیلیاں ہوں اور ایسی تبدیلی ہو کہ خود انسان محسوس کرے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو کہ میں پہلے تھا بلکہ اب میں ایک اور انسان ہوں۔اس وقت خدا کو راضی کر وحتی کہ تم کو بشارتیں ہوں۔(البدر جلد اول نمبر ۹ مورخه ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۶۸) بیعت کرنا صرف زبانی اقرار ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے آپ کو فروخت کر دینا ہے خواہ ذلت ہو نقصان ہو۔