تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 220

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۰ سورة النّمل چھوڑا گیا ہے جو نہایت تیزی سے چل رہا ہے اب ہر ایک نظر جوشیشوں پر پڑتی ہے وہ اپنی غلطی سے ان شیشوں کو بھی پانی سمجھ لیتی ہے اور پھر انسان ان شیشوں پر چلنے سے ایسا ڈرتا ہے جیسا کہ پانی سے ڈرنا چاہیے حالانکہ وہ در حقیقت شیشے ہیں مگر صاف اور شفاف۔سو یہ بڑے بڑے اجرام جو نظر آتے ہیں جیسے آفتاب و ماہتاب وغیرہ۔یہ وہی صاف شیشے ہیں جن کی غلطی سے پرستش کی گئی اور ان کے نیچے ایک اعلیٰ طاقت کام کر رہی ہے جوان شیشوں کے پردہ میں پانی کی طرح بڑی تیزی سے چل رہی ہے اور مخلوق پرستوں کی نظر کی یہ غلطی ہے کہ انہیں شیشوں کی طرف اس کام کو منسوب کر رہے ہیں جو ان کے نیچے کی طاقت دکھلا رہی ہے۔یہی تفسیر اس آیت کریمہ کی ہے انه صرح مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِير غرض چونکہ خدا تعالی کی ذات باوجود نہایت روشن ہونے کے پھر بھی نہایت مخفی ہوتی ہے اس لئے اس کی شناخت کے لئے صرف یہ نظام جسمانی جو ہماری نظروں کے سامنے ہے کافی نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ ایسے نظام پر مدار رکھنے والے باوجود یکہ اس ترتیب ابلغ اور محکم کو جو صد با عجائبات پر مشتمل ہے نہایت غور کی نظر سے دیکھتے رہے بلکہ ہیئت اور طبعی اور فلسفہ میں وہ مہارتیں پیدا کہیں کہ گویا زمین و آسمان کے اندر دھنس گئے مگر پھر بھی شکوک وشبات کی تاریکی سے نجات نہ پاسکے اور اکثر ان کے طرح طرح کی خطاؤں میں مبتلا ہو گئے اور بیہودہ اوہام میں پڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۳ تا ۳۶۵) اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ تمام کام جو یہ جسمانی آفتاب کر رہا ہے وہ سب کام اس حقیقی آفتاب کے ظل ہیں اور یہ نہیں کہ وہ صرف روحانی کام کرتا ہے بلکہ جس قدر اس جسمانی سورج کے کام ہیں وہ اس کے اپنے کام نہیں ہیں بلکہ در حقیقت اس معبود حقیقی کی پوشیدہ طاقت اس کے اندر وہ تمام کام کر رہی ہے جیسا کہ اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن شریف میں ایک ملکہ کا قصہ لکھا ہے جو آفتاب پرست تھی اور اس کا نام بلقیس تھا اور وہ اپنے ملک کی باشاہ تھی اور ایسا ہوا کہ اس وقت کے نبی نے اس کو دھمکی دے بھیجی کہ تجھے ہمارے پاس حاضر ہونا چاہیے ورنہ ہمارا شکر تیرے پر چڑھائی کرے گا اور پھر تیری خیر نہیں ہوگی۔پس وہ ڈر گئی اور اس نبی کے پاس حاضر ہونے کے لئے اپنے شہر سے روانہ ہوئی اور قبل اس کے کہ وہ حاضر ہواس کو متنبہ کرنے کے لئے ایک ایسا محل طیار کیا گیا جس پر نہایت مصفا شیشہ کا فرش تھا اور اس فرش کے نیچے نہر کی طرح ایک وسیع خندق طیار کی گئی تھی جس میں پانی بہتا تھا اور پانی میں مچھلیاں چلتی تھیں۔جب وہ ملکہ اس جگہ پہنچی تو اس کو حکم دیا گیا کہ محل کے اندر آ جانب اس نے نزدیک جا کر دیکھا کہ پانی زور سے بہہ رہا ہے اور اس میں