تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 219

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۹ سورة النّمل قِيلَ لَهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَةً وَ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا قَالَ و اِنَّه صرح مُمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ ، قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِى وَ أَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْنَ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کو لازم پڑی ہوئی ہیں ایک برتر ہستی کی تلاش ہے جس کے لئے اندر ہی اندر انسان کے دل میں ایک کشش موجود ہے اور اس تلاش کا اثر اسی وقت سے محسوس ہونے لگتا ہے جبکہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے کیونکہ بچہ پیدا ہوتے ہی پہلے روحانی خاصیت اپنی جو دکھاتا ہے وہ یہی ہے کہ ماں کی طرف جھکا جاتا ہے اور طبعا اپنی ماں کی محبت رکھتا ہے اور پھر جیسے جیسے حواس اس کے کھلتے جاتے ہیں اور شگوفہ فطرت اس کا کھلتا جاتا ہے یہ کشش محبت جو اس کے اندر چھپی ہوئی تھی اپنا رنگ و روپ نمایاں طور پر دکھاتی چلی جاتی ہے پھر تو یہ ہوتا ہے کہ بجز اپنی ما کی گود کے کسی جگہ آرام نہیں پاتا اور پورا آرام اس کا اسی کے کنار عاطفت میں ہوتا ہے اور اگر ماں سے علیحدہ کر دیا جائے اور دور ڈال دیا جاوے تو تمام عیش اس کا تلخ ہو جاتا ہے اور اگر چہ اس کے آگے نعمتوں کا ایک ڈھیر ڈال دیا جاوے تب بھی وہ اپنی سچی خوشحالی ما کی گود میں ہی دیکھتا ہے اور اس کے بغیر کسی طرح آرام نہیں پاتا۔سو وہ کشش محبت جو اس کو اپنی ما کی طرف پیدا ہوتی ہے وہ کیا چیز ہے؟ در حقیقت یہ وہی کشش ہے جو معبود حقیقی کے لئے بچہ کی فطرت میں رکھی گئی ہے بلکہ ہر ایک جگہ جو انسان تعلق محبت پیدا کرتا ہے درحقیقت وہی کشش کام کر رہی ہے اور ہر ایک جگہ جو یہ عاشقانہ جوش دکھلاتا ہے در حقیقت اسی محبت کا وہ ایک عکس ہے گویا دوسری چیزوں کو اُٹھا اُٹھا کر ایک گم شدہ چیز کی تلاش کر رہا ہے جس کا اب نام بھول گیا ہے۔سو انسان کا مال یا اولا دیا بیوی سے محبت کرنا یا کسی خوش آواز کے گیت کی طرف اس کی روح کا کھینچے جانا در حقیقت اسی گم شدہ محبوب کی تلاش ہے اور چونکہ انسان اس دقیق در دقیق ہستی کو جو آگ کی طرح ہر ایک میں مخفی اور سب پر پوشیدہ ہے اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا اور نہ اپنی نا تمام عقل سے اس کو پاسکتا ہے۔اس لئے اس کی معرفت کے بارے میں انسان کو بڑی بڑی غلطیاں لگی ہیں اور سہو کاریوں سے اس کا حق دوسرے کو دیا گیا ہے۔خدا نے قرآن شریف میں یہ خوب مثال دی ہے کہ دنیا ایک ایسے شیش محل کی طرح ہے جس کی زمین کا فرش نہایت مصفا شیشوں سے کیا گیا ہے اور پھر ان شیشوں کے نیچے پانی