تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 200
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الشعراء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ہمدردی اور محنت اٹھانے سے بنی نوع کی رہائی کے لئے جان کو وقف کر دیا تھا اور دعا کے ساتھ اور تبلیغ کے ساتھ اور ان کے جور و جفا اٹھانے کے ساتھ اور ہر ایک مناسب اور حکیمانہ طریق کے ساتھ اپنی جان اور اپنے آرام کو اس راہ میں فدا کر دیا تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنينَ۔۔۔۔کیا تو اس غم اور اس سخت محنت میں جولوگوں کے لئے اٹھارہا ہے اپنے تئیں ہلاک کر دے گا۔۔۔۔۔۔سو قوم کی راہ میں جان دینے کا حکیمانہ طریق یہی ہے کہ قوم کی بھلائی کے لئے قانونِ قدرت کی مفید راہوں کے موافق اپنی جان پر سختی اٹھا دیں اور مناسب تدبیروں کے بجالانے سے اپنی جان ان پر فدا کر دیں نہ یہ کہ قوم کوسخت بلا یا گمراہی میں دیکھ کر اور خطر ناک حالت میں پا کر اپنے سر پر پتھر مارلیس یا دوتین رتی اسٹر کنیا کھا کر اس جہان سے رخصت ہو جا ئیں اور پھر گمان کریں کہ ہم نے اپنی اس حرکت بیجا سے قوم کو نجات دے دی ہے۔یہ مردوں کا کام نہیں زنانہ خصلتیں ہیں اور بے حوصلہ لوگوں کا ہمیشہ سے یہی طریق ہے کہ مصیبت کو قابل برداشت نہ پا کر جھٹ پٹ خود کشی کی طرف دوڑتے ہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۹،۴۴۸) ہر ایک نبی کی یہ مرا تھی کہ تمام کفار ان کے زمانہ کے جو ان کی مخالفت پر کھڑے تھے مسلمان ہو جائیں مگر یہ مراد ان کی پوری نہ ہوئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے فرما یا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اللَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِینَ یعنی کیا تو اس غم سے اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے ایمان لانے کے لئے اس قدر جانگا ہی اور سوز وگداز سے دعا کرتے تھے کہ اندیشہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غم سے خود ہلاک نہ ہو جاویں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے اس قدر غم نہ کر اور اس قدر اپنے دل کو دردوں کا نشانہ مت بنا کیونکہ یہ لوگ ایمان لانے سے لا پروا ہیں اور ان کے اغراض اور مقاصد اور ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اے نبی ( علیہ السلام ) جس قدر تو عقدِ ہمت اور کامل توجہ اور سوز و گداز اور اپنی روح کو مشقت میں ڈالنے سے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دعا کرتا ہے۔تیری دعاؤں کے پُر تاثیر ہونے میں کچھ کمی نہیں ہے لیکن شرط قبولیت دعا یہ ہے کہ جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے سخت متعصب اور لا پروا اور گندی فطرت کا انسان نہ ہو ورنہ دعا قبول نہیں ہوگی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۲۲۶)