تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 199

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيُطنِ الرَّحِيمِ ١٩٩ سورة الشعراء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الشعراء بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ) کیا تو اسی غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔( براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۸ حاشیه ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نہایت درجہ کا یہ جوش تھا کہ میں اپنی زندگی میں اسلام کا زمین پر پھیلنا دیکھ لوں اور یہ بات بہت ہی نا گوار تھی کہ حق کو زمین پر قائم کرنے سے پہلے سفر آخرت پیش آوے۔سو خدا تعالیٰ اس آیت میں (یعنی اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ۔۔۔۔۔الخ۔ناقل ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری دیتا ہے کہ دیکھ میں نے تیری مراد پوری کر دی اور کم و بیش اس مراد کا ہر یک نبی کو خیال تھا مگر چونکہ اس درجہ کا جوش نہیں تھا اس لئے نہ مسیح کو اور نہ موسیٰ کو یہ خوشخبری ملی بلکہ اسی کو ملی جس کے حق میں قرآن میں فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِینَ یعنی کیا تو اس غم سے ہلاک ہو جاوے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔( نور القرآن نمبر ا ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۵،۳۵۴ حاشیه ) کیا تو اس غم سے ہلاک ہو جائے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔مطلب یہ ہے کہ تیری شفقت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ تو ان کے غم میں ہلاک ہونے کے قریب ہے۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۳)