تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 196
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں آجاتی ہے۔۱۹۶ سورة الفرقان ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۵۱) ان لوگوں کی نسبت ( جو خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی یا پروانہیں کرتے اور اپنی زندگی فسق و فجور میں گزارتے ہیں ) فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُم یعنی میرا رب تمہاری کیا پروا کرتا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۱) انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادت الہی ہے لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بریکار کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا۔اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَو لَا دُعَاؤُكُمْ۔میں نے ایک بار پہلے بھی بیان کیا تھا کہ میں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک جنگل میں کھڑا ہوں۔شرقا غربا اس میں ایک بڑی نالی چلی گئی ہے اس نالی پر بھیٹر میں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک قصاب کے جو ہر ایک بھیٹر پر مسلط ہے ہاتھ میں چھری ہے جو انہوں نے ان کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف منہ کیا ہوا ہے۔میں ان کے پاس ٹہل رہا ہوں میں نے یہ نظارہ دیکھ کر سمجھا کہ یہ آسمانی حکم کے منتظر ہیں تو میں نے یہی آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ یہ سنتے ہی ان قصابوں نے فی الفور چھریاں چلا دیں اور یہ کہا کہ تم ہو کیا؟ آخر گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔غرض خدا تعالیٰ متقی کی زندگی کی پروا کرتا ہے اور اس کی بقا کو عزیز رکھتا ہے اور جو اس کی مرضی کے برخلاف چلے وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کو جہنم میں ڈالتا ہے اس لئے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہر کرے۔جیسے کلور ا فارم نیند لاتا ہے اسی طرح پر شیطان انسان کو تباہ کرتا ہے۔اور اسے غفلت کی نیند سلاتا ہے اور اسی میں اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷اراگست ۱۹۰۱ صفحه ۱) (رسالہ انذار ۶۳) ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم میری بندگی نہ کرو تو پرواہ کیا ہے۔جانوروں کی زندگی دیکھ لو کہ منتیں ان سے لی جاتی ہیں اور ان کو ذبح کیا جاتا ہے پس جو انسان خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرتا ہے اس کی زندگی کی ضمانت نہیں رہتی چنانچہ فرمایا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ یعنی اگر تم اللہ کو نہ پکارو تو میرا رب تمہاری پر واہ ہی کیا رکھتا ہے۔رکھتا۔یا درکھو جو دنیا کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں یا اس سے تعلق نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ان کی کچھ پرواہ نہیں الحکم جلد ۴ نمبر ۳۶ مورخه ۱/۱۰اکتوبر ۱۹۰۰ صفحه ۳)