تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 195
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۵ سورة الفرقان حالت کا نام سعادت عظمی ہے۔غرض باوا صاحب نے یہ نکتہ معرفت قرآن شریف سے لیا ہے کیونکہ دوسری تمام قو میں اس سے غافل ہیں اور ان کے عقیدے اس کے برخلاف ہیں۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۲، ۲۲۳) قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لزامات کافروں کو کہہ کہ اگر تم خدا کی بندگی نہ کرو تو وہ تمہاری پرواہ کیا رکھتا ہے۔سو تم نے بجائے طاعت اور بندگی کے جھٹلانا اختیار کیا سو عنقریب اس کی سزا تم پر وارد ہونے والی ہے۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۲ حاشیه ) چونکہ خدا کے قانون میں یہی انتظام مقرر ہے کہ رحمت خاصہ انہیں کے شامل حال ہوتی ہے کہ جو رحمت کے طریق کو یعنی دعا اور توحید کو اختیار کرتے ہیں اس باعث سے جو لوگ اس طریق کو چھوڑ دیتے ہیں وہ طرح طرح کی آفات میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ - إِنَّ اللَّهَ لَغَنِى عَنِ الْعَلَمِينَ (ال عمران : ۹۸ ) یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پر واہ کیا رکھتا ہے اگر تم دعا نہ کرو اور اس کے فیضان کے خواہاں نہ ہو۔خدا کو تو کسی کی زندگی اور وجود کی حاجت نہیں۔وہ تو بے نیاز مطلق ہے۔برائین احمد یہ چہار شخص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۶۴،۵۶۳ حاشیه ۱۱) ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پر واہ کیا رکھتا ہے اگر تم اس کی پرستش نہ کرو اور اس کے حکموں کو نہ سنو۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۶۴) ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پروا کیار کھتا ہے اگر تم بندگی نہ کرو اور دعاؤں میں مشغول نہ رہو۔مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۲۸) ان کو کہہ دے کہ اگر تم نیک چلن انسان نہ بن جاؤ اور اس کی یاد میں مشغول نہ رہو تو میرا خدا تمہاری زندگی کی پروا کیا رکھتا ہے اور سچ ہے کہ جب انسان غافلانہ زندگی بسر کرے اور اس کے دل پر خدا کی عظمت کا کوئی رعب نہ ہو اور بے قیدی اور دلیری کے ساتھ اس کے تمام اعمال ہوں تو ایسے انسان سے ایک بکری بہتر ہے جس کا دودھ پیا جاتا ہے اور گوشت کھایا جاتا ہے اور کھال بھی بہت سے کاموں