تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 183
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۳ بھی کام نہیں آتی اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان بلْ هُمْ أَضَلُّ کا مصداق ہو جاتا ہے۔سورة الفرقان الحکم جلد ۴ نمبر ۲۵ مورخه ۹ جولائی ۱۹۰۰ صفحه ۳) تیسرے درجہ کے وہ لوگ ہیں جو عمدہ اخلاق اور عمدہ اعمال میں سبقت لے جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ جو صدر اسلام کا وقت تھا اس زمانہ پر ایک وسیع نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم نے کیوں کر ایمان لانے والوں کو مذکورہ بالا ادنی درجہ سے اعلیٰ درجہ تک پہنچادیا کیونکہ ایمان لانے والے اپنی ابتدائی حالت میں اکثر ایسے تھے کہ جس حالت کو وہ ساتھ لے کر آئے تھے وہ حالت جنگلی وحشیوں سے بدتر تھی اور درندوں کی طرح ان کی زندگی تھی اور اس قدر بد اعمال اور بد اخلاق میں وہ مبتلا تھے کہ انسانیت سے باہر ہو چکے تھے اور ایسے بے شعور ہو چکے تھے کہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہم بداعمال ہیں یعنی نیکی اور بدی کی شناخت کی حس بھی جاتی رہی تھی۔پس قرآنی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے جو پہلا اثر ان پر کیا تو یہ تھا کہ ان کو محسوس ہو گیا کہ ہم پاکیزگی کے جامہ سے بالکل برہنہ اور بداعمالی کے گند میں گرفتار ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کی پہلی حالت کی نسبت فرماتا ہے أُولَبِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ اضل یعنی ” یہ لوگ چار پائیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر “۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت اور فرقان کی دلکش تاثیر سے ان کو محسوس ہو گیا کہ جس حالت میں ہم نے زندگی بسر کی ہے وہ ایک وحشیانہ زندگی ہے اور سراسر بد اعمالیوں سے ملوث ہے تو انہوں نے روح القدس سے قوت پا کر نیک اعمال کی طرف حرکت کی۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۲۴) الم تر إلى رَبَّكَ كَيْفَ مَدَّ الظَّلَّ وَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنَّا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا ثُمَّ قَبَضْنُهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا والنَّوْمَ سُبَانًا وَ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوران کیا تو خدا کی طرف دیکھتا نہیں کہ وہ کیوں کر سایہ کو لنبا کھینچتا ہے یہاں تک کہ تمام زمین پر تاریکی ہی دکھائی دیتی ہے اور اگر وہ چاہتا تو ہمیشہ تاریکی رکھتا اور کبھی روشنی نہ ہوتی لیکن ہم آفتاب کو اس لئے نکالتے ہیں کہ تا اس بات پر دلیل قائم ہو کہ اس سے پہلے تاریکی تھی یعنی تا بذریعہ روشنی کے تاریکی کا وجود شناخت