تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 182
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ سورة الفرقان بات کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے سو اس مصلحت سے خدا نے قرآن شریف کو تئیس برس تک نازل کیا تا اس مدت سواس (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۷) تک موعود نشان بھی ظاہر ہو جائیں۔انبیا علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمن کہلاتے ہیں ان کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن شریف میں آیا ہے كذلك لِنتَيَّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَهُ ترتیلا۔پس میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ انبیا علیہم السلام کی حالت کیسی ہوتی ہے جس دن نبی مامور ہوتا ہے اس دن اور اس کی نبوت کے آخری دن میں ہزاروں کوس کا فرق الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰) ہو جاتا ہے۔وَإِذَا رَاَوكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا اَهُذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا ) اور تیرے ساتھ ہنسی سے ہی پیش آئیں گے۔اور ٹھٹھا مار کر کہیں گے کیا یہی ہے جس کو خدا نے اصلاح خلق کے لئے مقرر کیا یعنی جن کا مادہ ہی خبث ہے ان سے صلاحیت کی امید مت رکھ۔برامین احمد یه چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۱، ۶۱۲ حاشیہ نمبر ۳) ان لوگوں نے تجھے ایک ہنسی کی جگہ سمجھ رکھا ہے۔وہ طنزاً کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے ہم میں دعوت کے لئے کھڑا کیا۔تجھے لوگ ہنسی کی جگہ بنالیں گے اور کہیں گے کہ کیا یہی شخص خدا نے مبعوث فرمایا ہے۔براتین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۸۷) برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۲) ام تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ اکثر لوگ ان میں سے سنتے اور سمجھتے ہیں۔نہیں یہ تو چار پائیوں کی طرح ہیں۔بلکہ ان سے بھی بدتر۔(براہین احمدیہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه (۶۵۱) انسان جو اخلاق فاضلہ کو حاصل کر کے نفع رساں ہستی نہیں بنتا۔ایسا ہوجاتا ہے کہ وہ کسی بھی کام نہیں آسکتا۔مردار حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی تو کھال اور ہڈیاں بھی کام آجاتی ہیں اس کی تو کھال