تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 170
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۰ سورة الفرقان فسق اور فجور سے انہیں بیزار کر دیا اور پاک اور نیک اخلاق سے وہ متصف ہو گئے اور ایک بھاری تبدیلی ان کے اخلاق اور چلین اور روح میں واقع ہو گئی۔نور القرآن نمبر ا، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۶۱ تا ۳۶۵) ہم نے تجھے بھیجا تا کہ تو دنیا کی تمام قوموں کو ڈراوے یعنی ان کو متنبہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی بدکاریوں اور عقیدوں کی وجہ سے سخت گنہ گار ٹھہری ہیں۔یادر ہے کہ جو اس آیت میں نذیر کا لفظ دنیا کے تمام فرقوں کے مقابل پر استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی پراستہ گنہگاروں اور بدکاروں کو ڈرانا ہے اسی لفظ سے یقینی سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کا یہ دعویٰ تھا کہ تمام دنیا بگڑ گئی اور ہر ایک نے سچائی اور نیک بختی کا طریق چھوڑ دیا کیونکہ انذار کا محل فاسق اور مشرک اور بد کا رہی ہیں اور انذار اور ڈرانا مجرموں کی ہی تنبیہ کے لئے ہوتا ہے نہ نیک بختوں کے لئے۔اس بات کو ہر یک جانتا ہے کہ ہمیشہ سرکشوں اور بے ایمانوں کو ہی ڈرایا جاتا ہے اور سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ نبی نیکوں کے لئے بشیر ہوتے ہیں اور بدوں کے لئے نذیر۔پھر جبکہ ایک نبی تمام دنیا کے لئے نذیر ہوا تو ماننا پڑا کہ تمام دنیا کو نبی کی وحی نے بداعمالیوں میں مبتلا قرار دیا ہے اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ نہ توریت نے موسیٰ کی نسبت کیا اور نہ انجیل نے عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی نسبت بلکہ صرف قرآن شریف نے کیا۔( نور القرآن نمبر ا، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۶، ۳۳۷) ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کوڈراوے۔لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اُس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ ” میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعویٰ تبلیغ عام کا عین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ الله اليكم جَمِيعًا (الاعراف : ۱۵۹) دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوت اسلام کے خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہرگز خطا نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں اور اُس کے ہاتھ سے کمال تک پہنچی۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۷۷،۷۶)