تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 152

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ سورة النُّور وَإِنَّ الْقُرْآنَ عَمَّلَ الْمِيزَانَ وَأَعْطى قرآن کریم نے میزان کو برابر رکھا ہے اور ہمارے نبی کریم نَبِيَّنَا كُلّ ما أَعْلى مُهْلِكَ فِرْعَوْنَ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ سب کچھ دیا جو فرعون اور ہامان کو ہلاک وَهَامَانَ فَمَا لَكُمْ لَا تَعْدِلُونَ وَقَد کرنے والا موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھا پھر تم کیوں انصاف نہیں بَلَّغَ الْقُرْآنُ أَمْرَهُ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ کرتے۔قرآن کریم نے اپنا فیصلہ تمہیں پہنچادیا ہے۔پس جس فَأُولئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ أَتَخَتَارُونَ نے اس فیصلے کے بعد انکار کیا تو ایسے لوگ فاسق ہیں کیا تم اللہ أَهْوَاءَ كُمْ عَلى كِتَابِ الله أَو بَلَغَكُم تعالی کی کتاب کے مقابلے میں اپنی خواہشات کو ترجیح دیتے ہو عِلْمٌ يُسَاوِى الْقُرْآنَ فَأَخْرِجُودُ لَنَا یا پھر تمہیں کوئی ایسا علم مل گیا ہے جو قرآن کریم کے مساوی ہے۔إن كُنْتُمْ تُصَدِّقُونَ كَلَّا بَلْ وَجَدُوا سوا گر تم سچے ہو تو اس علم کو نکال کر ہمارے سامنے پیش کرو لیکن تم كُبَرَاءَهُمْ عَلَيْهِ فَهُمْ عَلی آثار ہم ہرگز ایسا نہیں کر سکو گے۔اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے يُهْرَعُوْنَ۔وَقَد سَوَّى الله السّلْسِلَتَيْنِ بڑوں کو اس راستے پر چلتے پایا تھا اور یہ انہی کے نقش قدم پر وَهُمْ يَزِيدُونَ وَيَنْقُصُونَ فَمَن بھاگے چلے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے دونوں سلسلوں کو برابر أَظْلَمُ مَنِ اتَّخَذَ سَبِيلًا غَيْرَ سَبِیلِ قرار دیا ہے۔اور یہ لوگ ان میں کمی بیشی کر رہے ہیں۔پس اس الْقُرْآنِ أَلا لَعْتَةُ الله عَلَى الَّذِينَ شخص سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو قرآن کریم کے رستہ کو چھوڑ يَظْلِمُونَ يَا حَسْرَةً عَلَيْهِم أَلا کر اپنا الگ رستہ بناتا ہے۔سنوان لوگوں پر خدا کی لعنت ہے جو يَتَدَبُّرُونَ الْقُرْآنَ أَوْ هُمْ قَوْمٌ ظلم کرتے ہیں۔ہائے افسوس کیا یہ لوگ قرآن کریم پر تدبر نہیں عمونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَتَترُكُونَ کرتے یا پھر وہ اندھے ہیں۔جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تم تو اللہ كِتَابَ اللهِ قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اباءنا کی کتاب کو چھوڑ رہے ہو تو وہ کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو وَلَوْ كَانَ آبَاءَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا اس طریق پر پایا ہے اگر چہ ان کے باپ دادا کچھ بھی علم و عقل نہ وَلَا يَعْقِلُونَ۔أَتَترُكُونَ كَلامَ رَبِّكُمْ رکھتے ہوں۔کیا تم اللہ کے کلام کو اپنے آباء واجداد کی خاطر چھوڑتے لآبَاءِ كُمْ ؟ أَفٍ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْمَلُونَ ہو۔افسوس ہے تم پر اور اس کام پر جو تم کر رہے ہو وہ کہتے ہیں ہم وَقَالُوا إِنَّا رَأَيْنَا فِي الْأَحَادِيثِ نے احادیث میں ایسا دیکھا ہے حالانکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ وَمَا فَهِمُوْا قَوْلَ رَسُوْلِ اللهِ وَإِن هُمْ علیہ وسلم کے قول کو نہیں سمجھے اور صرف اندھیرے میں بھٹک إِلَّا يَعْمَهُونَ يُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کتاب اللہ اور قول رسول میں