تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 132

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۲ سورة النُّور آنے والے مسیح کی خوشخبری دی ہے جیسا کہ اُس نے وعدہ فرمایا ہے کہ جس طرز اور طریق سے اسرائیلی نبوتوں میں سلسلۂ خلافت قائم کیا گیا ہے وہی طرز اسلام میں ہوگی۔یہ وعدہ مسیح موعود کے آنے کی خوشخبری اپنے اندر رکھتا ہے۔کیونکہ جب سلسلۂ خلافت انبیاء بنی اسرائیل میں غور کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ سلسلہ حضرت موسیٰ سے شروع ہوا اور پھر چودہ سو برس بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہو گیا۔اور اس نظام خلافت پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کا مسیح موعود جس کے آنے کی یہود کو خوشخبری دی گئی تھی چودہ سو برس بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آیا اور غریبوں اور مسکینوں کی شکل میں ظاہر ہوا اور اس مماثلت کے پورا کرنے م کے لئے جو قرآن شریف میں دونوں سلسلہ خلافت اسرائیکی اور خلافت محمدی میں قائم کی گئی ہے ضروری ہے کہ ہر ایک منصف اس بات کو مان لے کہ سلسلۂ خلافت محمدیہ کے آخر میں بھی ایک مسیح موعود کا وعدہ ہو جیسا کہ سلسلۂ خلافت موسویہ کے آخر میں ایک مسیح موعود کا وعدہ تھا اور نیز تکمیل مشابہت دونوں سلسلوں کے لئے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جیسا کہ خلافت موسویہ کے چودہ سو برس کی مدت پر مسیح موعود بنی اسرائیل کے لئے ظاہر ہوا تھا ایسا ہی اور اسی مدت کے مشابہ زمانہ میں خلافتِ محمدیہ کا مسیح موعود ظاہر ہو۔اور نیز تکمیل مشابہت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ یہودیوں کے علماء نے خلافت موسویہ کے مسیح موعود کو نعوذ باللہ کا فر اور ملحد اور دقبال قرار دیا تھا ایسا ہی خلافتِ محمدیہ کے مسیح موعود کو اسلامی قوم کے علماء کا فر اور ملحد اور دقبال قرار دیں۔اور نیز تکمیل مشابہت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ خلافت موسویہ کا مسیح موعود ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ یہودیوں کی اخلاقی حالت نہایت ہی خراب ہو گئی تھی اور دیانت اور امانت اور تقویٰ اور طہارت اور باہمی محبت اور صلح کاری میں بہت فتور پڑ گیا تھا اور اُن کی اس ملک کی بھی سلطنت جاتی رہی تھی جس ملک میں مسیح موعود اُن کی دعوت کے لئے ظاہر ہوا تھا۔ایسا ہی خلافت محمدیہ کا مسیح موعود قوم کی ایسی حالت اور ایسے ادبار کے وقت ظاہر ہو۔ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۸۳، ۲۸۴) ثُمَّ بَعدَ ذَالِكَ اعْلَمُوا يَا أولى التهى۔پھر بعد اس کے تمہیں معلوم ہو اے دانشمند و! کہ أنّ الله ذَكَرَ فِي الْقُرْآنِ انَّه بَعَثَ مُوسى خدا نے قرآن شریف میں یہ ذکر کیا کہ اس نے پہلی بَعْدَمَا أَهْلَكَ الْقُرُونَ الأولى - وَآتَاهُ الله امتوں کے ہلاک کر دینے کے بعد موسیٰ کو پیدا کیا۔اور الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ - وَوَهَبَ لِقَوْمِهِ اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی اور اس کی قوم کو الْخِلافَةَ وَأَقَامَ فِيْهِم سِلْسِلَةَ الْهُدى - خلافت بخشی اور ان میں سلسلہ ہدایت کا قائم کیا اور اس