تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 120
سورة النُّور تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرینہ تحدید خطاب کا ہو وہ جگہ مستی ہے چنانچہ آیات موصوفہ بالا میں خاص حواریوں کے ایک طائفہ نے نزول مائدہ کی درخواست کی اُسی طائفہ کو مخاطب کر کے جواب ملا۔سو یہ قرینہ کافی ہے کہ سوال بھی اسی طائفہ کا تھا اور جواب بھی اسی کو ملا اور یہ کہنا کہ اس کی مثالیں کثرت سے قرآن میں ہیں بالکل جھوٹ اور دھوکا دینا ہے۔قرآن میں بیاسی کے قریب لفظ منکھ ہے اور چھ سو کے قریب اور اور صورتوں میں خطاب ہے لیکن تمام خطابات احکامیہ وغیرہ میں تقسیم ہے اگر قرآن کے خطابات صحابہ تک ہی محدود ہوتے توصحابہ کے فوت ہو جانے کے ساتھ قرآن باطل ہو جاتا اور آیت متنازعہ فیہا جو خلافت کے متعلق ہے در حقیقت اس آیت سے مشابہ ہے لَهُمُ الْبُشْرى في الحيوةِ الدُّنْيَا ( يونس : ۶۵) کیا یہ بشر کی صحابہ سے ہی خاص تھا یا کسی اور کو بھی اس سے حصہ ہے۔اور معترض کا یہ کہنا کہ جو شخص اصلی معنوں سے جو خصوصیت مخاطبین ہے عدول کر کے اس کے معنے عموم لیوے اس کا ذمہ ہے کہ وہ دلیل یقینی سے اپنے عدول کو ثابت کرے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف معترض کو قرآن کریم سے بلکہ تمام الہی کتابوں کے اسلوب کلام سے کچھ بھی خبر نہیں مشکل یہ ہے کہ اکثر شتاب کارلوگ قبل اس کے جو پورے طور پر خوض کریں اعتراض کرنے کو طیار ہو جاتے ہیں۔اگر معترض صاحب کو صحیح نیت سے تحقیق کا شوق تھا تو وہ تمام ایسے موقعہ جہاں بظاہر نظر صحابہ مخاطب ہیں جمع کر کے دیکھتے کہ اکثر اغلب اور بلا قیام قرینہ قرآن شریف میں کیا محاورہ ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جو اکثر اغلب محاورہ ثابت ہوگا اسی کے موافق اصلی معنی ٹھہریں گے اور ان سے عدول کرنا بغیر قیام قرینہ جائز نہیں ہوگا۔اب ظاہر ہو کہ اصل محاورہ قرآن کریم کا خطاب حاضرین میں عموم ہے اور قرآن کا چھ سو حکم اسی بناء پر عام سمجھا جاتا ہے نہ یہ کہ صحابہ تک محدود سمجھا جائے پھر جو شخص عام محاورہ سے عدول کر کے کسی حکم کو صحابہ تک ہی محدودر کھے اس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہوگا کہ قرائن قویہ سے یہ ثابت کرے کہ یہ خطاب صحابہ سے ہی خاص ہے اور دوسرے لوگ اس سے باہر ہی مثلاً اللہ جل شانہ قرآن کریم میں بظاہر صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تم صرف خدا کی بندگی کرو اور صبر اور صلوۃ کے ساتھ مدد چاہو اور پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور کسی قسم کا فساد مت کرو۔اور تم زکوتا اور نماز کو قائم کرو اور مقام ابراہیم سے جائے نماز ٹھہراؤ۔اور خیرات میں ایک دوسرے سے سبقت کر و اور مجھ کو یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا۔اور میرا شکر کرو۔اور مجھ سے دعا مانگو اور جولوگ خدا کی راہ میں شہید ہوں ان کو مردے مت کہو اور جوتم کو سلام علیکم کرے اس کا نام کا فر اور بے ایمان نہ رکھو۔پاک چیزیں زمین کی پیداوار میں سے کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو۔تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں مگر جو تم میں سے بیمار یا سفر پر ہووہ اور