تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 119

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٩ سورة النُّور وو کوئی تخصیص کا لفظ نہ ہوتا تو عبارت رکیک اور مہم اور دُور از فصاحت ہوتی اور منکھ کے لفظ سے یہ جتانا بھی منظور ہے کہ پہلے بھی وہی لوگ خلیفے مقرر کئے گئے تھے کہ جو ایماندار اور نیکو کار تھے اور تم میں سے بھی ایماندار اور نیکو کار ہی مقرر کئے جائیں گے۔اب اگر آنکھیں دیکھنے کی ہوں تو عام معنی کی رُو سے منگھ کے لفظ کا زائد ہونا کہاں لازم آتا ہے اور تکرار کلام کیوں کر ہے جبکہ ایمان اور عمل صالح اسی اُمت سے شروع نہیں ہوا پہلے بھی مومن اور نکو کار گزرے ہیں تو اس صورت میں تمیز کامل بجز منکھ کے لفظ کے کیوں کر ہوسکتی تھی۔اگر صرف اس قدر ہوتا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصلحت تو کچھ معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ یہ کن ایمانداروں کا ذکر ہے آیا اس اُمت کے ایماندار یا گذشتہ امتوں کے اور اگر صرف منکم ہوتا اور الَّذِینَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحت نہ ہوتا تو یہ سمجھا جاتا کہ فاسق اور بد کار لوگ بھی خدا تعالیٰ کے خلیفے ہو سکتے ہیں حالانکہ فاسقوں کی بادشاہت اور حکومت بطور ابتلا کے ہے نہ بطور اصطفا کے اور خدا تعالیٰ کے حقانی خلیفے خواہ وہ رُوحانی خلیفے ہوں یا ظاہری وہی لوگ ہیں جو متقی اور ایماندار اور نیکو کار ہیں۔اور یہ وہم کہ عام معنوں کی رُو سے ان آیات کی اخیر کی آیت یعنی وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الفيسقُونَ بالکل بے معنی ٹھہر جاتی ہے ایسا بیہودہ خیال ہے جو اس پر جنسی آتی ہے کیونکہ آیت کے صاف اور سید ھے یہ معنی ہیں کہ اللہ جل شانہ خلیفوں کے پیدا ہونے کی خوشخبری دے کر پھر باغیوں اور نافرمانوں کو دھمکی دیتا ہے کہ بعد خلیفوں کے پیدا ہونے کے جب وہ وقتاً فوقتاً پیدا ہوں اگر کوئی بغاوت اختیار کرے اور ان کی اطاعت اور بیعت سے منہ پھیرے تو وہ فاسق ہے۔اب نا درستی معنوں کی کہاں ہے اور واضح ہو کہ اس آیت کریمہ سے وہ حدیث مطابق ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔مَنْ لَّمْ يَعْرِفُ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِنتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ - جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا یعنی جیسے جیسے ہر یک زمانہ میں امام پیدا ہوں گے اور جو لوگ اُن کو شناخت نہیں کریں گے تو ان کی موت کفار کی موت کے مشابہ ہوگی اور معترض صاحب کا اس آیت کو پیش کرنا کہ قَالَ اللهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنّى أَعَذِبُهُ عَذَابًا لَا أَعَذِّبُةَ أَحَدًا مِنَ الْعَلَمِينَ ( المائدة : ١١٦ ) اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ منکر کا لفظ اس جگہ خصوصیت کے ساتھ حاضرین کے حق میں آیا ہے ایک بے فائدہ بات ہے کیونکہ ہم لکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم کا عام محاورہ جس سے تمام قرآن بھرا پڑا ہے یہی ہے کہ خطاب عام ہوتا ہے اور احکام خطا ہیہ تمام امت کے لئے ہوتے ہیں نہ صرف صحابہ کے لئے۔ہاں جس جگہ کوئی صریح اور صاف