تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 92
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۲ سورة النُّور کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔قرآن شریف نے ( جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مد نظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے ) کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُم که تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہوگا۔فروج سے مراد شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور اس میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے که غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے ( تعدد ازدواج اور طلاق کے مسئلہ پر غور کرو) لیک بعد از خرابی بسیار هر چه دانا کند کند نادان ہمیں افسوس ہے کہ آریہ صاحبان بھی بے پردگی پر زور دیتے ہیں اور قرآن شریف کے احکام کی مخالفت چاہتے ہیں حالانکہ اسلام کا یہ بڑا احسان ہندوؤں پر ہے کہ اس نے ان کو تہذیب سکھلائی اور اس کی تعلیم ایسی ہے جس سے مفاسد کا دروازہ بند ہو جاتا ہے مثل مشہور ہے ؎۔خر بسته به گرچه درد آشنا است یہی حالت مرد اور عورت کے تعلقات کی ہے کہ اگر چہ کچھ ہی کیوں نہ ہولیکن تاہم فطری جوش اور تقاضے بعض اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جب ان کو ذراسی تحریک ہوئی تو جھٹ حد اعتدال سے ادھر ادھر ہو گئے اس لئے ضروری ہے کہ مرد اور عورت کے تعلقات میں حد درجہ کی آزادی وغیرہ کو ہرگز نہ دخل دیا جاوے ذرا اپنے دلوں میں غور کرو کہ کیا تمہارے دل راجہ رامچندر اور کرشن وغیرہ کی طرح پاک ہو گئے ہیں ؟ پھر جب وہ پاک دلی تم کو نصیب نہیں ہوئی تو بے پردگی کو رواج دے کر بکریوں کو شیروں کے آگے کیوں رکھتے ہو۔ہٹ اور ضد اور تعصب اور چڑ وغیرہ سے تم لوگ دیدہ و دانستہ اسلام کے ان پاکیزہ اصولوں کی مخالفت کیوں کرتے ہو جن سے تمہاری عفت برقرار رہتی ہے عقل تو اس بات کا نام ہے کہ انسان کو نیک بات جہاں سے ملے وہ لے لیوے کیونکہ نیک بات کی مثال سونے اور ہیرے اور جواہر کی ہے اور یہ اشیاء خواہ کہیں ہوں آخر وہ سونا وغیرہ ہی ہوں گی اس لئے تم کو لازم ہے کہ اسلام کے نام سے چڑ کر تم نیکی کو ترک نہ کرو ورنہ یا درکھو کہ اسلام کا تو کچھ حرج نہیں ہے اگر اس کا ضرر ہے تو تم ہی کو ہے ہاں اگر تم لوگوں کو یہ اطمینان ہے کہ سب کے سب بھگت بن