تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 91
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۱ سورة النُّور فروج کی بھی حفاظت کریں۔لازم ہے کہ انسان چشم خوابیدہ ہو تا کہ غیر محرم عورت کو دیکھ کر فتنہ میں نہ پڑے۔کان بھی فروج میں داخل ہیں جو قصص سن کر فتنہ میں پڑ جاتے ہیں اس لئے عام طور پر فرمایا کہ تمام موریوں کو محفوظ رکھو اور کہا کہ بالکل بند رکھو ذلک ان کی لَهُمُ یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اور یہ طریق اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی رکھتا ہے جس کے ہوتے ہوئے بدر کاروں میں نہ ہوگے۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۸۸) مسیح کا یہ کہنا کہ زنا کی نظر سے نہ دیکھ کوئی کامل تعلیم نہیں ہے۔اس کے مقابلہ میں کامل تعلیم یہ ہے جو مبادی گناہ سے بچاتی ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ یعنی کسی نظر سے بھی نہ دیکھیں کیونکہ دل اپنے اختیار میں نہیں ہے۔یہ کیسی کامل تعلیم ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ / دسمبر ۱۹۰۰ء صفحه ۴) مومن کو نہیں چاہیے کہ دریدہ دہن بنے یا بے محابا اپنی آنکھ کو ہر طرف اُٹھائے پھرے۔بلکہ يَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہیے اور بدنظری کے اسباب سے بچنا چاہیے۔الحام جلد ۵ نمبر ۱ ۳ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۴،۳) یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی یہ لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو۔اگر اس آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاک دامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطر ناک ہوں گے۔بد نظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصہ ہے۔پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا۔مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنارکھا ہے۔پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات کے مغلوب نہ ہوسکیں تو اس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گو یا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے۔کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے