تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 65
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام يَعرِشُونَ سورة النحل یہ امر ضروری ہے کہ وحی شریعت اور وحی غیر شریعت میں فرق کیا جاوے بلکہ اس امتیاز میں تو جانوروں کو جو وحی ہوتی ہے اس کو بھی مد نظر رکھا جاوے۔بھلا آپ بتلاویں کہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے و اولی رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ تو اب آپ کے نزدیک شہد کی مکھی کی وجی ختم ہو چکی ہے یا جاری ہے۔۔۔جب مکھی کی وحی اب تک منقطع نہیں ہوئی تو انسانوں پر جو وحی ہوتی ہے وہ کیسے منقطع ہو سکتی ہے۔ہاں یہ فرق ہے کہ ال کی خصوصیت سے اس وحی شریعت کو الگ کیا جاوے ورنہ یوں تو ہمیشہ ایسے لوگ اسلام میں ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جن پر وحی کا نزول ہو۔حضرت مجددالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس وحی کے قائل ہیں اور اگر اس سے یہ مانا جاوے کہ ہر ایک قسم کی وحی منقطع ہو گئی ہے تو یہ لازم آتا ہے کہ امور مشہودہ اور محسوسہ سے انکار کیا جاوے۔اب جیسے کہ ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ خدا کی وحی نازل ہوتی ہے پس اگر ایسے شہود اور احساس کے بعد کوئی حدیث اس کے مخالف ہو تو کہا جاوے گا کہ اس میں غلو ہے خود غزنوی والوں نے ایک کتاب حال میں لکھی ہے جس میں عبد اللہ غزنوی کے الہامات درج کئے ہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ ستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۵۸) ثُمَّ كُلى مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلاً يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ) ( شہید ) یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے۔عبادت شاقہ جو لوگ برداشت کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں ہر ایک تلخی اور کدورت کو جھیلتے ہیں اور جھیلنے کے لئے طیار ہو جاتے ہیں۔وہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں اور جیسے شہد فيه شفاء للنا کیس کا مصداق ہے یہ لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں۔ان کی صحبت میں آنے والے بہت سے امراض سے نجات پا جاتے ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۱) فيه شفاء للناس سے معلوم ہوتا ہے کہ دواؤں میں خدا تعالیٰ نے خواص شفاء مرض بھی رکھے ہوئے ہیں اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ دواؤں میں تاثیرات ہوتی ہیں اور امراض کے معالجات