تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 49

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹ سورة الحجر کا چھپانا اسی طرح شرک سمجھتے ہیں جس طرح وحی الہی سے اطلاع پانے کے بغیر کسی امر کی اشاعت شرک سمجھتے ہیں اگر وہ اس بات کو جس کی اطلاع وحی الہی کے ذریعہ سے نہیں ملی۔بیان کرتا ہے تو گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے وہ سوجھتا ہے جو خدا کو بھی نہیں سوجھتا اور اس گستاخی سے وہ مشرک ہو جاتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۲) إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِعِيْنَ وہ جو تجھ سے اور تیرے الہام سے ہنسی کرتے ہیں ہم ان کے لئے کافی ہیں یعنی تجھے صبر چاہیے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۶۹ حاشیه ) وَاعْبُدُ رَبِّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔مفسر کہتے ہیں کہ یقین سے مراد موت ہے مگر موت روحانی مراد ہے اور یہ ظاہری بات ہے کہ اس کا مقصود بالذات کیا ہو جس کی تلاش کرنے کے لئے یہاں ایما اور اشارہ ہے مگر میں کہتا ہوں کہ وہ روحانی موت ہو یا تمہاری زندگی خدا ہی کی راہ میں وقف ہو۔مومن کو لازم ہے کہ اس وقت تک عبادت سے نہ تھکے اورست نہ ہو جب تک یہ جھوٹی زندگی بھسم نہ ہو جاوے اور اس کی جگہ نئی زندگی جو ابدی اور راحت بخش زندگی ہے اس کا سلسلہ شروع نہ ہو جاوے اور جب تک اس عارضی حیات دنیا کی سوزش اور جلن دور ہو کر ایمان میں ایک لذت اور روح میں ایک سکینت اور استراحت پیدا نہ ہو۔یقیناً سمجھو کہ جب تک انسان اس حالت تک نہ پہنچے ایمان کامل اور ٹھیک نہیں ہوتا۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ تو عبادت کرتا رہ جب تک کہ مجھے یقین کامل کا مرتبہ حاصل نہ ہو اور تمام حجاب اور ظلماتی پر دے دور ہو کر یہ سمجھ میں آجاوے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا بلکہ اب تو نیا ملک نئی زمین ، نیا آسمان ہے اور میں بھی کوئی نئی مخلوق ہوں یہ حیات ثانی وہی ہے جس کو صوفی بقا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔جب انسان اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی روح کا نفخ اس میں ہوتا ہے۔ملائکہ کا اس پر نزول ہوتا ہے۔یہی وہ راز تھا جس پر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت فرمایا کہ اگر کوئی چاہے کہ مردہ میت کو زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو وہ ابو بکر کو دیکھے۔اور ابوبکر کا درجہ اس کے ظاہری اعمال سے ہی نہیں بلکہ اس بات