تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 48

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۸ سورة الحجر بمخرجين اُن کا بہشت سے نکلنا ممتنع ہے۔پس اس سے تمام کا رخا نہ حشر اجساد و واقعات معاد کا باطل ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا عقیدہ جو مومنین مطہر مین بلا توقف بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں یہ میری طرف سے نہیں بلکہ یہی عقیدہ ہے جس کی قرآن شریف نے تعلیم دی ہے۔اور دوسری تعلیم جو قرآن شریف میں ہے جو حشر اجساد ہوگا اور مردے زندہ ہوں گے وہ بھی حق ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ یہ بہشت میں داخل ہونا صرف اجمالی رنگ میں ہے اور اس صورت میں جو مومنوں کو مرنے کے بعد بلا توقف اجسام دیئے جاتے ہیں وہ اجسام ابھی ناقص ہیں مگر حشر اجساد کا دن تجلی اعظم کا دن ہے اور اُس دن کامل اجسام ملیں گے اور بہشتیوں کا تعلق کسی حالت میں بہشت سے الگ نہیں ہوگا۔من وجه وہ بہشت میں ہوں گے اور من وجه خدا تعالیٰ کے سامنے آئیں گے۔کیا وہ شہداء جو سبز چڑیوں کی طرح بہشت میں پھل کھاتے ہیں کیا وہ چڑیاں بہشت سے باہر نکل کر خدا کے سامنے پیش نہیں ہوں گی ؟ فتدبر۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۷ حاشیه ) وَلَقَد اتيتكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ (۸۸ ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصد دینیہ کو ظاہر کرتا ہے اور اسی جہت م اور سے اس سورۃ کا نام ام الکتاب اور سورۃ الجامع ہے۔ام الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصد قرآنیہ اس سے مستخرج ہوتے ہیں۔اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علوم قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمالی مشتمل ہے اسی جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گویا اس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۸۱،۵۸۰ حاشیہ نمبر۱۱) فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ۔(۹۵) رسول وہی کام کرتا ہے جس کا حکم دیا جاتا ہے جیسے خدا فرماتا ہے فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ جس کا حکم نہ دیا جائے اس کے برخلاف کچھ کہنا یا کرنا گستاخی ہے۔(الہدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۳۴) جب کسی امر کے متعلق وحی الہی آجاتی ہے تو پھر مامور اس کے پہنچانے میں کسی کی پروا نہیں کرتے اور اس