تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 38
۳۸ سورة الحجر تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الأَمْرُ، وَيَضَعُ الله الحرب۔وَتَقَعُ الأَمَنَةُ کامل ہوگا اور اللہ تعالی لڑائی کو بند کرا دے گا اور زمین پر عَلَى الْأَرْضِ وَتَنْزِلُ السَّكِينَةُ وَالصُّلْحُ امن قائم ہو جائے گا اور سیکنت اور صلح دلوں کی گہرائیوں فى جُذُورِ الْقُلُوبِ وَنَتْرُكُ السَّبَاعُ میں قائم ہو جائے گی درندے اپنی درندگی کی عادتوں کو اور سَبْعِيعَهَا وَالْأَفَاعِي سُميعها، وتَتَبَيِّنُ اژدھے اپنی زہرنا کی کو چھوڑ دیں گے۔رُشد اور ہدایت الرُّشْدُ وَعَهْلِكَ الْغَى وَلا تبقى من الكفر واضح ہو جائے گی اور گمراہی مٹ جائے گی۔کفر اور شرک وَالشَّرُكِ إِلَّا رَسُمْ قَلِيلٌ، وَلَا يَلْتَزِمُ کے صرف تھوڑے سے نشان باقی رہ جائیں گے۔فسق و الْفِسْقَ وَالْفَاحِشَةَ إِلَّا قَلبْ عَلِيْلٌ فجور اور بے حیائی کو صرف بیمار دل اختیار کریں گے اور وَيُهْدَى الضَّالُونَ، وَيُبْعَثُ الْمَقْبُورُونَ گمراہوں کو ہدایت دے دی جائے گی۔قبروں میں پڑے لے فَهَذَا هُوَ مَعْنَى قَوْلِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ہوئے اٹھائے جائیں گے۔یہی معنے اللہ تعالیٰ کے ارشاد وو فَإنَّ هذا الْبَعْتَ بَعْثُ مَّا رَاهُ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ “ کے ہیں۔یقیناً یہی وہ اٹھایا جانا الْأَوَّلُونَ وَلَا الْمُرْسَلُونَ السَّابِقُونَ وَلَا ہے جو پہلے لوگوں نے نہیں دیکھے اور نہ ہی پہلے رسولوں اور النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ۔وَإِنَّ دِینَ الله وَإن نبیوں کو یہ نظارہ نظر آیا اگر چہ اللہ کا دین شروع سے ہی اپنی كَانَ غَالِبًا مِنْ بُدُو أَمْرِهِ عَلى كُلِّ دِيْنِ روحانی قوت اور استعداد کے لحاظ سے دوسرے ہر دین پر منْ حَيْثُ الْقُوَّةِ وَالْإِسْتِعْدَادِ، وَلكِن غالب ہے لیکن اسے بھی یہ موقع پہلے میسر نہیں آیا کہ اس لَّمْ يَنْفِقُ لَهُ مِنْ قَبْلُ أَن يُبَارِی نے دلیل، برہان اور سند کے لحاظ سے باقی دینوں سے مقابلہ الأَدْيَات كُلِّهَا بِالْحُجَّةِ وَالْإِسْنَادِ کیا ہو اور انہیں پورے طور پر شکست دی ہو اور یہ ثابت کر وَيَنْزَمَهَا كُلَّ الْهَزْمِ وَيُفيت آنها مخلوق دیا ہو کہ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب خرابیوں سے پر مِنَ الْفَسَادِ، وَتَخْرُجَ كَالأَبطال بأسْلِحَةِ ہیں اور نہ ہی ایسا موقع آیا کہ استدلال کے ہتھیاروں سے الإستدلال، حَتَّى يَعُمَّ في جميع الدِّيَارِ مسلح ہو کر دین اسلام بہادروں کی طرح میدان میں آیا ہو جَمِيعِ وَالْبِلادِ۔وَكَانَ ذَالِك تَقْدِيرًا من الله یہاں تک کہ تمام شہروں اور ملکوں میں پھیل گیا ہو۔یقینا یہ الْوَدُودِ مَا سَبَقَ مِنْهُ أَنَّ الْغَلَبَةَ العامة خدائے مہربان کی ایک آسمانی تقدیر تھی کیونکہ اس نے پہلے وَالصَّلَاحَ الْأَكْبَرَ الْأَعَةَ يَخْتَصُّ سے یہ فرما دیا تھا کہ کامل غلبہ اور بہت بڑی عمومی اصلاح بِزَمَانِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَلِذَالِكَ مسیح موعود کے زمانہ سے مختص ہے اسی لئے شیطان نے اس الاعراف : ۱۵