تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 410

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۰ سورة الحج اپنے تمام اقوال وحی غیر متلو میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ روح القدس کی برکت اور چمک ہمیشہ نبی کے شامل حال رہتی ہے اور ہر ایک بات اس کی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت روح القدس سے اس کلام میں رکھی جاتی ہے لہذا ہر ایک بات نبی کی جو نبی کی توجہ تام سے اور اس کے خیال کی پوری مصروفیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ بلا شبہ وحی ہوتی ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۲، ۳۵۳) پوچھا گیا کہ قرآن کا جو نزول ہوا ہے وہ یہی الفاظ ہیں یا کس طرح ؟ فرمایا:۔) یہی الفاظ ہیں اور یہی خدا کی طرف سے نازل ہوا۔قراءت کا اختلاف الگ امر ہے مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِي ميں لا محدب قراءت شازہ ہے اور یہ قراءت صحیح حدیث کا حکم رکھتی ہے جس طرح پر نبی اور رسول کی وحی محفوظ ہوتی ہے اسی طرح محدث کی وحی بھی محفوظ ہوتی ہے جیسا کہ اس آیت سے پایا الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۶) جاتا ہے۔بعض کا یہ خیال ہے کہ اگر کسی الہام کے سمجھنے میں غلطی ہو جائے تو امان اُٹھ جاتا ہے اور شک پڑ جاتا ہے کہ شاید اُس نبی یا رسول یا محدث نے اپنے دعوئی میں بھی دھوکا کھایا ہو۔یہ خیال سراسر سفسطہ ہے اور جو لوگ نیم سودائی ہوتے ہیں وہ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں اور اگر اُن کا یہی اعتقاد ہے تو تمام نبیوں کی نبوت سے اُن کو ہاتھ دھو بیٹھنا چاہئے کیونکہ کوئی نبی نہیں جس نے کبھی نہ کبھی اپنے اجتہاد میں غلطی نہ کھائی ہو مثلاً حضرت مسیح جو خدا بنائے گئے اُن کی اکثر پیشگوئیاں غلطی سے پر ہیں۔مثلاً یہ دعویٰ کہ مجھے داؤد کا تخت ملے گا بجز اس کے ایسے دعوئی کے کیا معنے تھے کہ کسی مجمل الہام پر بھروسہ کر کے اُن کو یہ خیال پیدا ہوا کہ میں بادشاہ بن جاؤں گا۔۔۔۔نبی کے ساتھ صد با انوار ہوتے ہیں جن سے وہ شناخت کیا جاتا ہے۔اور جن سے اُس کے دعویٰ کی سچائی کھلتی ہے۔پس اگر کوئی اجتہاد غلط ہو تو اصل دعوی میں کچھ فرق نہیں آتا مثلاً آنکھ اگر دُور کے فاصلہ سے انسان کو بیل تصور کرے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ آنکھ کا وجود بے فائدہ ہے یا اُس کی رویت قابل اعتبار نہیں۔پس نبی کے لئے اُس کے دعوئی اور تعلیم کی ایسی مثال ہے جیسا کہ قریب سے آنکھ چیزوں کو دیکھتی ہے اور اُن میں غلطی نہیں کرتی۔اور بعض اجتہادی امور میں غلطی کی ایسی مثال ہے جیسے دُور دراز کی چیزوں کو آنکھ دیکھتی ہے تو کبھی ان کی تشخیص میں غلطی کر جاتی ہے۔اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی کو جو یہودیوں کی بھلائی کے لئے اپنی بادشاہت کا خیال تھا۔اس لئے بموجب آیت کریمہ إِلَّا إِذَا تَمَلَى الْقَى الشَّيْطن في