تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 393
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۳ سورة الحج نافہم مخالف یہ کہتے ہیں کہ جہاد کے ذریعہ اسلام پھیلا یا جاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ میچ نہیں ہے۔اسلام کی کامل تعلیم خود اس کی اشاعت کا موجب ہے۔نفس اسلام کے لئے ہر گز کسی تلوار یا بندوق کی ضرورت نہیں ہے۔اسلام کی گزشتہ لڑائیاں وہ دفاعی لڑائیاں تھیں انہوں نے غلطی اور سخت غلطی کھائی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ جبراً مسلمان بنانے کے واسطے تھیں۔غرض میرا ایمان ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلایا جاتا بلکہ اس کی تعلیم جو اپنے ساتھ اعجازی نشان رکھتی ہے خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۸ مورخه ۷ ارمنی ۱۹۰۱ صفحه ۴) ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلامی جنگ بالکل دفاعی تھی اور ان میں وہ شدت اور سخت گیری ہرگز نہ تھی جو موسیٰ اور یشوع کے جنگوں میں پائی جاتی ہے۔اگر وہ کہیں کہ موسیٰ اور یشوع کی لڑائیاں عذاب الہی کے رنگ میں تھیں تو ہم کہتے ہیں کہ اسلامی جنگوں کو کیوں عذاب الہی کی صورت میں تسلیم نہیں کرتے ؟ موسوی جنگوں کو کیا ترجیح ہے؟ بلکہ ان اسلامی جنگوں میں تو موسوی لڑائیوں کے مقابلہ میں بڑی بڑی رعایتیں دی گئی ہیں اصل بات یہی ہے کہ چونکہ وہ لوگ نوا میں الہیہ سے ناواقف تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر موسیٰ علیہ السلام کے مخالفوں کے مقابلہ میں بہت بڑا رحم فرما یا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔پھر اسلامی جنگوں میں موسوی جنگوں کے مقابلہ میں یہ بڑی خصوصیت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خادموں کو مکہ والوں نے برابر تیرہ سال تک خطرناک ایذائیں اور تکلیفیں دیں اور طرح طرح کے دکھ ان ظالموں نے دیئے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور بعض برے برے عذابوں سے مارے گئے۔چنانچہ تاریخ پڑھنے والے پر یہ امرمخفی نہیں ہے کہ بیچاری عورتوں کو سخت شرمناک ایذاؤں کے ساتھ مار دیا یہاں تک کہ ایک عورت کو دو اونٹوں سے باندھ دیا اور پھر ان کو مختلف جہات میں دوڑا دیا اور اس بیچاری کو چیر ڈالا۔اس قسم کی ایذاء رسانیوں اور تکلیفوں کو برابر تیرہ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پاک جماعت نے بڑے صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کیا۔اس پر بھی انہوں نے اپنے ظلم کو نہ روکا اور آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصو بہ کیا گیا۔اور جب آپ نے خدا تعالیٰ سے ان کی شرارت کی اطلاع پا کر مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی پھر بھی انہوں نے تعاقب کیا اور آخر جب یہ لوگ پھر مدینہ پر چڑھائی کر کے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حملہ کو روکنے کا حکم دیا کیونکہ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ اہل مکہ اپنی شرارتوں اور شوخیوں کی پاداش میں عذاب الہی کا مزہ چکھیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے جو پہلے وعدہ کیا تھا کہ اگر یہ لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئیں گے تو