تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 377

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۷ سورة الحج پھر قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اسی طرح نماز روزہ اگر روح کا ہے تو پھر ظاہر کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ بالکل پکی بات ہے کہ جو لوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو روح نہیں مانتی اور اس میں وہ نیاز مندی اور عبودیت پیدا نہیں ہوسکتی جو اصل مقصد ہے۔اور جو صرف جسم سے کام لیتے ہیں روح کو اس میں شریک نہیں کرتے وہ بھی خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں اور یہ جوگی اسی قسم کے ہیں۔روح اور جسم کا با ہم خدا تعالیٰ نے ایک تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر روح پر پڑتا ہے۔۔۔غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔روح میں جب عاجزی پیدا ہوتی ہے پھر جسم میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے جب روح میں واقعی عاجزی اور نیاز مندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خود بخود ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے۔الحام جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۲، ۳) اِنَّ اللهَ يُدْفِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَانِ كَفُورٍ أَذِنَ لا لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقِّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتُ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَ لَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ خدا کا ارادہ ہے کہ کفار کی بدی اور ظلم کو مومنوں سے دفع کرے یعنی مومنوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دے تحقیقاً خدا خیانت پیشہ نا شکر لوگوں کو دوست نہیں رکھتا خدا ان مومنوں کو لڑنے کی اجازت دیتا ہے جن پر کا فرقتل کرنے کے لئے چڑھ چڑھ کے آتے ہیں اور خدا حکم دیتا ہے کہ مومن بھی کافروں کا مقابلہ کریں کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور خدا ان کی مدد پر قدرت رکھتا ہے یعنی اگر چہ تھوڑے ہیں مگر خدا ان کی مدد پر قادر ہے۔یہ قرآن شریف میں وہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ کی اجازت دی گئی۔آپ خود سوچ لو کہ اس آیت سے کیا نکلتا ہے۔کیا لڑنے کے لئے خود سبقت کرنا یا مظلوم ہونے کی حالت میں اپنے بچاؤ کے لئے مجبوری مقابلہ کرنا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۲،۳۹۱)