تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 376
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام صرف یہ قربانی میرے تک پہنچتی ہے کہ تم مجھ سے ڈرو اور میرے لئے تقویٰ اختیار کرو۔سورة الحج لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۲،۱۵۱) دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے۔گوشت اور خون سچی قربانی نہیں۔جس جگہ عام لوگ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں خاص لوگ دلوں کو ذبح کرتے ہیں مگر خدا نے یہ قربانیاں بھی بند نہیں کیں تا معلوم ہو کہ ان قربانیوں کا بھی انسان سے تعلق ہے۔(برائین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲۴) خدا تعالیٰ نے شریعتِ اسلام میں بہت سے ضروری احکام کے لئے نمونے قائم کئے ہیں چنانچہ انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اور اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو۔پس ظاہری قربانیاں اسی حالت کے لئے نمونہ ٹھہرائی گئی ہیں لیکن اصل غرض یہی قربانی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُم یعنی خدا کو تمہاری قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون پہنچتا ہے مگر تمہاری تقویٰ اس کو پہنچتی ہے یعنی اس سے اتنا ڈرو کہ گویا اس کی راہ میں مر ہی جاؤ۔اور جیسے تم اپنے ہاتھ سے قربانیاں ذبح کرتے ہو اسی طرح تم بھی خدا کی راہ میں ذبیح ہو جاؤ۔جب کوئی تقوی اس درجہ سے کم ہے تو ابھی وہ ناقص ہے۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۹ حاشیه ) اللہ تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا وہ تو روحانیت اور مغز کو قبول کرتا ہے اس لئے فرما یا لَن يَنَالَ الله لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَ لَكِن يَنَالُهُ التَّقْوى۔اور دوسری جگہ فرمایا إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة : ۲۸) الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵ ۲۶ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۱۳) ظاہری نماز اور روزہ اگر اس کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہاتھ تک سکھا دیتے ہیں اور بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتے اور اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں لیکن یہ تکالیف ان کو کوئی نور نہیں بخشتی اور نہ کوئی سکینت اور اطمینان ان کو ملتا ہے بلکہ اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے وہ بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہوتا ہے اور کوئی اثر ان کی روحانیت پر نہیں پڑتا۔اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما یا لَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ مغز چاہتا ہے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے تو