تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 363
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۳ اور ہم نے تجھے تمام دنیا کے لئے ایک عام رحمت کر کے بھیجا ہے۔سورة الانبياء ( تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۸) تمام دنیا کے لئے تجھے ہم نے رحمت کر کے بھیجا ہے اور تو رحمت مجسم ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر ۵ صفحه ۱۹۲) ہم نے کسی خاص قوم پر رحمت کرنے کے لئے تجھے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تمام جہان پر رحمت کی جائے پس جیسا کہ خدا تمام جہان کا خدا ہے ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے رسول ہیں اور تمام دنیا کے لئے رحمت ہیں اور آپ کی ہمدردی تمام دنیا سے ہے نہ کسی خاص قوم سے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۸) جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے۔اس وقت بھی چونکہ دنیا کی حالت بہت ہی قابلِ رحم ہو گئی تھی۔اخلاق ، اعمال، عقائد سب کا نام و نشان اُٹھ گیا تھا اس لئے اس امت کو مرحومہ کہا گیا۔کیونکہ اس وقت بڑے ہی رحم کی ضرورت تھی اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرمایا کہ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلا رَحْمَةً لِلعلمين - قابل رحم اس شخص کو کہتے ہیں جسے سانپوں کی زمین پر چلنے کا حکم ہو یعنی خطرات عظیمہ اور آفات شدیدہ در پیش ہوں۔پس امت مرحومہ اس لئے کہا کہ یہ قابل رحم ہے۔جب انسان کو مشکل کام دیا جاتا ہے تو وہ مشکل قابل رحم ہوتی ہے۔شرارتوں میں تجربہ کار ، بد اندیش، خطا کاروں سے مقابلہ ٹھہرا اور پھر امی جیسے حضرت نے فرمایا کہ ہم امی ہیں اور حساب نہیں جانتے۔پس امیوں کو شریر قوموں کا مقابلہ کرنا پڑا جو مکاید اور شرارتوں میں تجربہ کار تھے اس لئے اس کا نام امت مرحومہ رکھا۔مسلمانوں کو کس قدر خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی نے ان کو قابل رحم سمجھا۔چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا کے انسانوں کی روحانی تربیت کے لئے آئے تھے اس لئے یہ رنگ حضور علیہ الصلوۃ والسلام میں بدرجہ کمال موجود تھا اور یہی وہ مرتبہ ہے جس پر قرآن کریم نے متعدد مقامات پر حضور کی نسبت شہادت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابل اور اسی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ذکر فرمایا ہے مَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۷) رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۳)