تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 331
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣١ سورة الانبياء اس سے انکار کرنا صرف سفیہ اور نادان کا کام ہے نہ کسی صاحب بصیرت کا۔اور صاحب تفسیر کبیر اپنی تفسیر کے صفحہ ۱۶۴ میں لکھتے ہیں اِنَّ ذَنْبَهُ يَعْنِي ذَنْبَ يُونُسَ كَانَ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَعَدَهُ إِنْزَالَ الْإِهْلَاكِ بِقَوْمِهِ الَّذِينَ كَذَّبُوهُ فَظَنَّ أَنَّهُ نَازِلٌ لَّا فَحَالَةَ فَلِأُجْلِ هَذَا الظَّنِ لَمْ يَصْبِرُ عَلَى دُعَائِهِمْ فَكَانَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَمِرَّ عَلَى الدُّعَاءِ لِجَوَازِ اَنْ لَّا يُهْلِكَهُمُ اللهُ بِالْعَذَابِ یعنی یونس کا یہ گناہ تھا کہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ملا تھا کہ اس کی قوم پر ہلاکت نازل ہوگی کیونکہ انہوں نے تکذیب کی پس یونس نے سمجھ لیا کہ یہ عذاب موت قطعی اور اٹل ہے اور ضرور نازل ہوگا اسی نظن سے وہ دعا ہدایت پر صبر نہ کر سکا اور واجب تھا کہ دعا ہدایت کی کئے جاتا کیونکہ جائز تھا کہ خدا دعائے ہدایت قبول کرلے اور ہلاک نہ کرے۔اب بولو شیخ جی کیسی صفائی سے ثابت ہو گیا کہ یونس نبی وعدہ اہلاک کو قطعی سمجھتا تھا اور یہی اس کے ابتلا کا موجب ہوا کہ تاریخ موت مل گئی۔اور اگر اس پر کفایت نہیں تو دیکھو امام سیوطی کی تفسیر در منثور سورۃ سوره انبياء قَالَ أَخْرَجَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا دَعَا يُونُسُ عَلَى قَوْمِهِ أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ الْعَذَابَ يُصْبِحُهُمُ۔۔۔۔۔فَلَمَّا رَأَوْهُ جَارُوا إِلَى اللهِ وَ بَكَى النِّسَاء وَالْوِلْدَانُ وَرَغَتِ الإبلُ وَفُضلائهَا وَخَارَتِ الْبَقَرُ وَعَجَاجِيْلُهَا وَلَغَتِ الْغَنَم و سحالُهَا فَرَحِمَهُمُ اللهُ وَصَرَفَ ذلِكَ الْعَذَابَ عَنْهُمْ وَغَضِبَ يُونُسُ وَقَالَ كُذِبتُ فَهُوَ قَوْلُهُ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا - یعنی ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جبکہ یونس نے اپنی قوم پر بددعا کی۔ما سوخدا تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ صبح ہوتے ہی عذاب نازل ہوگا پس جبکہ قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو خدا تعالیٰ کی طرف تضرع کیا اور عورتیں اور بچے روئے اور اونٹنیوں نے ان کے بچوں کے سمیت اور گائیوں نے ان کے بچھڑوں کے سمیت اور بھیڑ بکری نے ان کے بزغالوں کے سمیت خوف کھا کر شور مچایا۔پس خدا تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور عذاب کو ٹال دیا اور یونس غضب ناک ہوا کہ مجھے تو عذاب کا وعدہ دیا گیا تھا یہ قطعی وعدہ کیوں خلاف واقعہ نکلا۔پس یہی اس آیت کے معنے ہیں کہ یونس غضب ناک ہوا۔اب دیکھو کہ یہاں تک یونس پر ابتلا آیا کہ کذبٹ اس کے منہ سے نکل گیا یعنی مجھ پر کیوں ایسی وحی نازل ہوئی جس کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی اگر کوئی شرط اس وعدہ کے ساتھ ہوتی تو یونس باوجود یکہ اس کو خبر پہنچ چکی تھی کہ قوم نے حق کی طرف رجوع کر لیا کیوں یہ بات منہ پر لاتا کہ میری پیشگوئی خلاف واقعہ نکلی۔اور اگر کہو کہ یونس کو ان کے ایمان اور رجوع کی خبر نہیں پہنچی تھی اور اس وہم میں تھا کہ باوجود کفر پر باقی رہنے کے عذاب سے بچ گئے اس