تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 330

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت ابراہیم پر آگ ٹھنڈی ہو گئی۔ج ٣٣٠ سورة الانبياء الحکم جلدا انمبر ۲۰ مورخه ۱۰ جون ۱۹۰۷ صفحه ۴،۳) فَفَهَّبْنَهَا سُلَيْمَنَ وَكُلًّا أتَيْنَا حُكْمًا وَ عِلْمًا ۖ وَ سَخَرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرِ وَكُنَّا فَعِدِينَ پس ہم نے وہ نشان سلیمان کو سمجھائے یعنی اس عاجز کو۔برائن احمد یہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۷۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۴) وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلمتِ اَنْ لا إلهَ إلا أنتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ۔فتح البیان اور ابن کثیر اور معالم کو دیکھو یعنی سورۃ الانبیاء سورہ یونس اور والصافات کی تفسیر پڑھو اور تفسیر کبیر صفحہ ۱۸۸ سے غور سے پڑھو تا معلوم ہو کہ ابتلا کی وجہ کیاتھی یہی تو تھی کہ حضرت یونس قطعی طور پر عذاب کو سمجھے تھے اگر کوئی شرط منجانب اللہ ہوتی تو یہ ابتلا کیوں آتا۔چنانچہ صاحب تفسیر کبیر لکھتا ہے إِنَّهُمْ لَمَّا لَهُ يُؤْمِنُوا أَوْعَدَهُمْ بِالْعَذَابِ فَلَمَّا كُشِفَ الْعَذَابُ مِنْهُمْ بَعْدَ مَا تَوَغَدَهُمْ خَرَجَ مِنْهُمْ مُغَاضِبًا یعنی یونس نے اس وقت عذاب کی خبر سنائی جبکہ اس قوم کے ایمان سے نومید ہو چکا پس جبکہ عذاب ان پر سے اٹھایا گیا تو غضب ناک ہو کر نکل گیا پس ان تفسیروں سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اول یونس نے اس قوم کے ایمان کے لئے بہت کوشش کی اور جبکہ کوشش بے سود معلوم ہوئی اور پاس کلی نظر آئی تو انہوں نے خدا تعالیٰ کی وحی سے عذاب کا وعدہ دیا جو تین دن کے بعد نازل ہوگا اور صاحب تفسیر کبیر نے جو پہلا قول نقل کیا ہے اس کے سمجھنے میں نادان شیخ نے دھوکا کھایا ہے اور نہیں سوچا کہ اس کے آگے صفحہ ۱۸۸ میں وہ عبارت لکھی ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ عذاب موت کی پیشگوئی بلا شرط تھی اور یہی آخری قول قول مفسرین اور ابن مسعود اور حسن اور شعبی اور سعید بن جبیر اور وہب کا ہے۔پھر ہم کہتے ہیں کہ جس حالت میں وعدہ کی تاریخ ٹلنا نصوص قرآنیہ قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے جیسا کہ آیت و واعَدْنَا مُوسى ثَلاثِينَ لَيْلَةٌ (الاعراف : ۱۴۳) اس کی شاہد ناطق ہے تو وعید کی تاریخیں جو نزول عذاب پر دال ہوتی ہیں جس کا ٹلنا اور رد بلا ہونا تو بہ اور استغفار اور صدقات سے باتفاق جمیع انبیاء علیہم السلام ثابت ہے پس ان تاریخوں کا ملنا بوجہ اولیٰ ثابت ہوا اور