تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 298

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الاولون ۲۹۸ سورة الانبياء غور سے سنو کہ عقلمندوں اور سوچنے والوں کے لئے میرے دعوی کے ساتھ اس قدر نشان موجود ہیں کہ اگر وہ انصاف سے کام لیں تو ان کے تسلی پانے کے لئے نہایت کافی وشافی ذخیرہ خوارق موجود ہے ہاں اگر کوئی اس شخص کی طرح جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مینہ کے بارے میں معجزہ استجابت دعا دیکھ کر یعنی کئی برسوں کے امساک باراں کے بعد مینہ برستا ہوا مشاہدہ کر کے پھر کہہ دیا تھا کہ یہ کوئی معجزہ نہیں۔اتفاقاً بادل آیا اور مینہ برس گیا۔انکار سے باز نہ آوے تو ایسے شخص کا علاج ہمارے پاس نہیں۔ایسے لوگ ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ آسمانی نشان دیکھتے رہے پھر یہ کہتے رہے فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كما أرسل الأولون - جو شخص سچے دل سے خدا کا نشان دیکھنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ سب سے پہلے اس نشان پر نظر کرے کہ اس عاجز کا ظاہر ہونا عین اس وقت میں ہے جس وقت کا ذکر ہمارے سید خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے آپ فرمایا ہے یعنی صدی کا سر۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صلیب کے غلبہ کے وقت ایک شخص پیدا ہو گا جو صلیب کو توڑے گا۔ایسے شخص کا نام آنحضرت نے مسیح ابن مریم رکھا انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۸۵) ہے۔یاد رکھو کہ تمام نبیوں نے اُن لوگوں کو ملعون ٹھہرایا ہے جو نبیوں اور ماموروں سے اقتراحی نشان مانگتے ہیں۔دیکھو حضرت عیسی علیہ السلام نے کیا فرمایا کہ اس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان مانگتے ہیں انہیں کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا۔ایسا ہی قرآن نے ان لوگوں کا نام ملعون رکھا جو لوگ حضرت سید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تجویز سے نشان مانگا کرتے تھے جن کا بار بار لعنت کے ساتھ قرآن شریف میں ذکر ہے ا جیسا کہ وہ لوگ کہتے تھے فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الاَوَّلُونَ یعنی ہمیں حضرت موسیٰ کے نشان دکھلائے جائیں یا حضرت مسیح کے اور کبھی آسمان پر چڑھ جانے کی درخواست کرتے تھے اور کبھی یہ نشان ما نگتے تھے کہ سونے کا گھر آپ کے لئے بن جائے اور ہمیشہ انہیں نفی میں جواب ملتا تھا۔تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک دیکھو کہیں اس بات کا نام و نشان نہ پاؤ گے کہ کسی کافر نے اپنی طرف سے یہ نشان مانگا ہو کہ کسی کی ٹانگ درست کرد و یا آنکھ درست کرد و یا مردہ زندہ کر دو۔تو آنحضرت نے وہی کام کر دیا ہو اور نہ انجیل میں اس کی کوئی نظیر ملے گی کہ کفار نشان مانگنے آئے اور انہیں دکھایا گیا بلکہ ایک دفعہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے