تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 263
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۳ سورة مريم ہے۔آپ کیہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنی والدہ کی فرمانبرداری میں بہت مصروف رہتا ہے اور اسی وجہ سے میرے پاس بھی نہیں آسکتا۔بظاہر یہ بات ایسی ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں مگر وہ ان کی زیارت نہیں کر سکتے صرف اپنی والدہ کی خدمت گزاری اور فرمانبرداری میں پوری مصروفیت کی وجہ سے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی آدمیوں کو السلام علیکم کی خصوصیت سے وصیت فرمائی یا اولیس کو یا مسیح کو۔یہ ایک عجیب بات ہے جو دوسرے لوگوں کو ایک خصوصیت کے ساتھ نہیں ملی۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت عمر ان سے ملنے کو گئے تو اویس نے فرمایا کہ والدہ کی خدمت میں مصروف رہتا ہوں اور میرے اونٹوں کو فرشتے چرایا کرتے ہیں۔ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے والدہ کی خدمت میں اس قدر سعی کی اور پھر یہ قبولیت اور عزت پائی۔ایک وہ ہیں جو پیسہ پیسہ کے مقدمات کرتے ہیں اور والدہ کا نام ایسی بری طرح لیتے ہیں کہ رذیل قو میں چوڑھے چمار بھی کم لیتے ہوں گے۔ہماری تعلیم کیا ہے؟ صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ہدایت کا بتلا دیتا ہے۔اگر کوئی میرے ساتھ تعلق ظاہر کر کے اس کو ماننا نہیں چاہتا تو وہ ہماری جماعت میں کیوں داخل ہوتا ہے؟ ایسے نمونوں سے دوسرں کو ٹھو کر لگتی ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو ماں باپ تک کی بھی عزت نہیں کرتے۔میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں که مادر پدر آزاد کبھی خیر و برکت کا مونہ نہ دیکھیں گے پس نیک نیتی کے ساتھ اور پوری اطاعت اور فرمانبرداری کے رنگ میں خدا، رسول کے فرمودہ پر عمل کرنے کو تیار ہو جاؤ بہتری اسی میں ہے ورنہ اختیار ہے ہمارا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔الخام جلد ۳ نمبر۱۷ مورخه ۱۲ مئی ۱۸۹۹ صفحه ۴) وَالسَّلَامُ عَلَى يَوْمَ وُلِداتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أَبْعَثُ حَيَّان ۳۴ اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح کے وجود کے متعلق تھے صرف تین بیان کئے گئے ہیں حالانکہ اگر رفع اور نزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا۔کیا نعوذ باللہ رفع اور نزول حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔سو اس جگہ پر خدا تعالیٰ کا اس رفع اور نزول کو ترک کرنا جو مسیح ابن مریم کی نسبت مسلمانوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے صاف اس بات پر دلیل ہے کہ وہ خیال پیچ اور خلاف واقعہ ہے بلکہ وہ رفع يَوْمَ أَمُوتُ میں داخل ہے اور نزول سراسر باطل ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۸)