تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 235
۲۳۵ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورةالكهف ایک ہی قوم بن جائیں گی۔اور پھر دوسری آیت میں فرمایا وَ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَيذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرْضًا۔اور اُس دن جو لوگ مسیح موعود کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے اُن کے سامنے ہم جہنم کو پیش کریں گے یعنی طرح طرح کے عذاب نازل کریں گے جو جہنم کا نمونہ ہوں گے اور پھر فرمایا الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاء عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعًا یعنی وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ سے اُن کی آنکھیں پردہ میں رہیں گی اور وہ اُس کی باتوں کو سن بھی نہیں سکیں گے اور سخت بیزار ہوں گے اس لئے عذاب نازل ہو گا۔اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے کیونکہ خدا کے نبی اس کی صو ر ہوتے ہیں یعنی قرنا۔جن کے دلوں میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے یہی محاورہ پہلی کتابوں میں بھی آیا ہے کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی قرنا قرار دیا گیا ہے۔یعنی جس طرح قرنا بجانے والا قرنا میں اپنی آواز پھونکتا ہے اسی طرح خدا اُن کے دلوں میں آواز پھونکتا ہے اور یا جوج ماجوج کے قرینہ سے قطعی طور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ قرنا مسیح موعود ہے۔کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یا جوج ماجوج کے زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح موعود ہی ہوگا۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب کہ ایک طرف بائبل سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یورپ کے عیسائی فرقے ہی یا جوج ماجوج ہیں اور دوسری طرف قرآن شریف نے یا جوج ماجوج کی وہ علامتیں مقرر کی ہیں جو صرف یورپ کی سلطنتوں پر ہی صادق آتی ہیں جیسا کہ یہ لکھا ہے کہ وہ ہر ایک بلندی پر سے دوڑیں گے یعنی سب طاقتوں پر غالب ہو جائیں گے اور ہر ایک پہلو سے دنیا کا عروج اُن کول جائے گا۔اور حدیثوں میں بھی یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ کسی سلطنت کو اُن کے ساتھ تاب مقابلہ نہیں ہوگی۔پس یہ تو قطعی فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہی قومیں یا جوج ماجوج ہیں اور اس سے انکار کرنا سراسر تحکم اور خدا تعالیٰ کے فرمودہ کی مخالفت ہے۔اس میں کس کو کلام ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے موافق یہی قومیں ہیں جو اپنی دنیوی طاقت میں تمام قوموں پر فوقیت لے گئی ہیں۔جنگ اور لڑائی کے داؤ پیچ اور ملکی تدابیر کے امور میں دُنیا میں اُن کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا اور انہیں کی کلوں اور ایجادوں نے کیا لڑائیوں میں اور کیا کسی قسم کے دُنیا کے آرام کے سامانوں میں ایک نیا نقشہ دُنیا کا ظاہر کر دیا ہے اور انسان کی تمدنی حالت کو ایک حیرت انگیز انقلاب میں ڈال دیا ہے اور تدبیر امور سیاست اور درستی سامان رزم بزم میں وہ ید طولی دکھلایا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی زمانہ میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی پس خدا کے بزرگ نبی کی پیشگوئی سے صد ہا سال بعد جو واقعہ اُس پیشگوئی کی مقرر کردہ علامتوں کے موافق ظہور میں آیا ہے وہ یہی واقعہ یورپین