تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 234

۲۳۴ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورةالكهف اَعْمَالاً اَلَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيوةِ ضَلَّ سَعْيُهُمُ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعال أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنعا اور قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا وَكَذَالِكَ قَوْلَهُ قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ لِكَلِمَتِ رَبِّى اس میں شک نہیں کہ نصاریٰ کی قوم رَبِّي وَلاشك أنَّ النَّصَارَى قَوْمُ الْخَذُوا نے ہی مسیح علیہ السلام کو خدا کے سوا معبود بنایا ہے الْمَسِيحَ مَعْبُودًا مِن دُونِ اللهِ وَتَمَا يَلُوا عَلَی اور وہ دنیا کی طرف مائل ہیں اور نت نئی ایجادیں الدُّنْيَا وَسَبَقُوا غَيْرَهُمْ فى الْجادِ صَنَابِعِهَا وَ کرنے میں دوسروں پر سبقت لے گئے ہیں اور قَالُوانَ الْمَسِيحَ هُوَ كَلِمَةُ الله وَالْمَعْلُوقُ كُلہ کہتے ہیں کہ مسیح ہی کلمتہ اللہ ہے اور باقی سب مخلوق مِنْ هَذِهِ الْكَلِمَةِ فَهُذِهِ الْآيَاتُ رَدُّ عَلَيْهِمُ اس کلمہ سے ہے۔یہ آیات ان کے ان خیالات کا (خطبہ الہامی روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۷۸ حاشیہ ) رد کرتی ہیں۔(ترجمہ از مرتب) از ایک قوم بنانے کا ذکر قرآن شریف کی سورہ کہف میں موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَيذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعَنَهُمْ جَمْعًا یعنی ہم آخری زمانہ میں ہر ایک قوم کو آزادی دیں گے تا اپنے مذہب کی خوبی دوسری قوم کے سامنے پیش کرے اور دوسری قوم کے مذہبی عقائد اور تعلیم پر حملہ کرے اور ایک مدت تک ایسا ہوتا رہے گا۔پھر قرنا میں ایک آواز پھونک دی جائے گی تب ہم تمام قوموں کو ایک قوم بنادیں گے اور ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۷۵ حاشیه ) وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَيذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا یعنی ان آخری دنوں میں جو یا جوج ماجوج کا زمانہ ہوگا دُنیا کے لوگ مذہبی جھگڑوں اور لڑائیوں میں مشغول ہو جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم پر مذہبی رنگ میں ایسے حملے کرے گی جیسے ایک موج دریا دوسری موج پر پڑتی ہے اور دوسری لڑائیاں بھی ہوں گی اور اس طرح پر دنیا میں بڑا تفرقہ پھیل جائے گا اور بڑی پھوٹ اور بغض اور کینہ لوگوں میں پیدا ہو جائے گا۔اور جب یہ باتیں کمال کو پہنچ جائیں گی تب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا یعنی مسیح موعود کے ذریعہ سے جو اُس کی قرنا ہے ایک ایسی آواز دنیا کو پہنچائے گا جو اس آواز کے سننے سے سعادت مند لوگ ایک ہی مذہب پر اکٹھے ہو جائیں گے اور تفرقہ دُور ہو جائے گا اور مختلف قو میں دُنیا کی ل الكهف : ۱۰۵،۱۰۴ الكهف : ١١٠