تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 226

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ سورة الكهف سب سے بڑا فتنہ ہی نصاری کا فتنہ ہے اور الدجال کا بروز ہے ایسا ہی یا جوج۔یہ لفظ اجیج سے مشتق ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آتشی کاموں کے ساتھ ان کا بہت بڑا تعلق ہوگا اور وہ آگ سے کام لینے میں بہت مہارت رکھیں گے گویا آگ ان کے قابو میں ہوگی اور دوسرے لوگ اس آتشی مقابلہ میں ان سے عاجز رہ جائیں گے اب یہ کیسی صاف بات ہے۔دیکھ لو کہ آگ کے ساتھ اس قوم کو کس قدر تعلق ہے۔کلیں کس قدر جاری ہیں اور دن بدن آگ سے کام لینے میں ترقی کر رہے ہیں۔یہ دونوں بروز ہیں اور یہ دونوں کیفیتیں جو متفرق طور پر تھیں ایک میں آئی ہیں ایسا ہی ماجوج میں۔۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۵ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۱ء صفحه ۲) ان ( یا جوج ماجوج کے لمبے کانوں سے مراد جاسوسی کی مشق ہے جیسے اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں تار خبر کا سلسلہ اور اخبار وغیرہ سب اسی میں ہیں۔البدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۲ /جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۷۷) اور یا جوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہو چکا ہے جو یہ دنیا کی دو بلند اقبال قو میں ہیں جن میں سے ایک انگریز اور دوسرے روس ہیں۔یہ دونوں قو میں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کر رہی ہیں یعنی اپنی خدا دا د طاقتوں کے ساتھ فتیاب ہوتی جاتی ہیں۔مسلمانوں کی بدچلنیوں نے مسلمانوں کو نیچے گراد یا اور ان کی تہذیب اور متانت شعاری اور ہمت اور اولوالعزمی اور معاشرت کے اعلیٰ اصولوں نے بحکم و مصلحت قادر مطلق ان کو اقبال دے دیا۔ان دونوں قوموں کا بائیل میں بھی ذکر ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۶۹) ایسا ہی یا جوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجیے۔یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور غالب نہیں ہوسکیں اور ان کی حالت میں ضعف رہا لیکن خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی جیسا کہ سورہ کہف میں فرماتا ہے وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَيذٍ يَمُوجُ في بعض یعنی یہ دونوں تو میں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدائے تعالیٰ چاہے گا فتح دے گا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۳) هذَانِ لَإِسْمَانِ لِقَوْمٍ تَفَرَّقَ شُعَبُهُمْ فِي ( ياجوج و ماجوج ) ایک ایسی قوم کے دو نام ہیں جس زَمَانِنَا هَذَا أَخِرِ الزَّمَانِ وَهُمْ فِي وَصْفٍ کی شاخیں ہمارے اس آخری زمانہ میں دنیا میں پھیلی ہوئی مُتَشَارِكُونَ۔وَهُمْ قَوْمُ الرُّوسِ وَقَوْمُ ہیں اور وہ اپنی صفات میں ایک دوسرے سے ملتی جلتی الْبَرَاطِنَةِ وَ إِخْوَانُهُم وَ الرِّجَالُ فِيهِمُ ہیں اور یہ قوم روس اور انگریز ہیں اور ان کے بھائی بند