تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 225
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۵ سورةالكهف سنا ہے کہ ایسے ایسے اعتراض ہم میں سے وہ لوگ کرتے ہیں جو بے خبر یا سخت درجہ کے متعصب ہیں۔۔۔۔جہاز میں بیٹھنے والے اور اگنبوٹ پر سوار ہونے والے ہر روز یہ تماشا دیکھتے ہیں کہ سورج پانی میں سے ہی نکلتا ہے اور پانی میں ہی غروب ہوتا ہے اور صدہا مرتبہ آپس میں جیسا دیکھتے ہیں ، بولتے بھی ہیں کہ وہ نکلا اور وہ غروب ہوا۔اب ظاہر ہے کہ اس بول چال کے وقت میں علم ہیئت کے دفتر اُن کے آگے کھولنا اور نظام شمسی کا مسئلہ لے بیٹھنا گویا یہ جواب سننا ہے کہ اے پاگل! کیا یہ علم تجھے ہی معلوم ہے۔ہمیں معلوم نہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۵۸ تا ۴۶۱) آپ نے آنے والے مسیح کا وقت یا جوج ماجوج کے ظہور کا زمانہ ٹھہرایا اور یا جوج ماجوج یوروپین عیسائی ہیں۔کیونکہ یہ نام اجیج کے لفظ سے نکالا گیا ہے جو شعلہ ، آگ کو کہتے ہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ لوگ آگ سے بہت کام لیں گے اور اُن کی لڑائیاں آتشی ہتھیاروں سے ہوں گی اور اُن کے جہاز اور اُن کی ہزاروں کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۰۰) مسیح موعود کا یا جوج ماجوج کے وقت میں آنا ضروری ہے۔اور چونکہ آجیج آگ کو کہتے ہیں جس سے یا جوج ماجوج کا لفظ مشتق ہے اس لئے جیسا کہ خدا نے مجھے سمجھایا ہے یا جوج ماجوج وہ قوم ہے جو تمام قوموں سے زیادہ دنیا میں آگ سے کام لینے میں استاد بلکہ اس کام کی موجد ہے۔اور ان ناموں میں یہ اشارہ ہے کہ اُن کے جہاز ، اُن کی ریلیں، اُن کی کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی اور اُن کی لڑائیاں آگ کے ساتھ ہوں گی اور وہ آگ سے خدمت لینے کے فن میں تمام دنیا کی قوموں سے فائق ہوں گے اور اسی وجہ سے وہ یا جوج ماجوج کہلائیں گے۔سو وہ یوروپ کی قومیں ہیں جو آگ کے فنون میں ایسے ماہر اور چابک اور یکتائے روزگار ہیں کہ کچھ بھی ضرور نہیں کہ اس میں زیادہ بیان کیا جائے۔پہلی کتابوں میں بھی جو بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئیں یوروپ کے لوگوں کو ہی یا جوج ماجوج ٹھہرایا ہے بلکہ ماسکو کا نام بھی لکھا ہے جو قدیم پایۂ تخت روس تھا۔سو مقرر ہو چکا تھا کہ مسیح موعود یا جوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہوگا۔اور نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹوں کی سواری اور بار برداری ترک کی جائے گی۔اس قول میں یہ اشارہ تھا کہ کوئی ایسی سواری ظاہر ہوگی جس سے اونٹوں کی حاجت نہیں رہے گی۔میں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ خدا تعالی کی مصلحت اور حکمت کے رُو سے ایک ایسے انسان کا آخری زمانہ میں آنا ضروری تھا۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۲۵،۴۲۴)